اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 200
200 جہاں تک ہمارے ہاتھوں عذاب دینے کی بات ہے تو وہ دوران جنگ ہے۔اگر عہد شکنی کرنے والوں سے جنگ ہوتی ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ ایسی صورت میں ہم تمہارے ہاتھوں سے ان کو الجُزْيَةَ عذاب دیں گے اس میں ایک تو صورت یہ ہے کہ وہ دوران جنگ قتل ہونگے، ا يُعطوا ا عن يد هُمْ صَغِرُونَ ، وہ جزیہ دیگر محکوم ہو جائیں گے لیکن ان آیات میں ایسی کوئی بھی صورت نہیں بیان کی گئی ہے کہ گالی دینے کے نتیجہ میں چونکہ نقص عہد ہوتا ہے اس لئے ایسے شخص کو قتل کر دیا جائے۔میں یہاں اس بحث کو دہرانا نہیں چاہتا کیونکہ اس پر پہلے ہی گزشتہ صفحات میں بحث ہو چکی ہے۔صرف اس قدر ہی بتانا کافی ہے کہ مندرجہ بالا آیات کو پیش کر کے جو نتیجہ نکالا گیا ہے اس کا ان آیات میں کوئی بھی ذکر موجود نہیں۔تیسری بات جو اس میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو یوں ہی جنگ کرنے کا حکم نہیں دیدیا گیا کہ چونکہ انہوں نے عہد شکنی کی ہے طعن فی الدین کیا ہے اور رسول کو اس کے گھر سے نکال دینے کا ارادہ کیا ہے اس لئے جنگ شروع کر دو ایسا نہیں ہے، بلکہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انہوں نے فتنہ کی ابتداء کی انہوں نے ہم سے پہلے جنگ شروع کر دی ہے اس لئے اب ہمارا یہ حق بنتا ہے کہ ہم بھی ان کے خلاف جنگ کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے که وَهُمْ بَدَءُ وَ كُمْ أَوَّلَ مَر یعنی اور تم سے ( جنگ چھیڑنے میں ) انہوں نے ہی ابتداء کی ہے۔اب دیکھیں کہ کس قدر جرائم کئے ہیں عہد شکنی بھی کی طعن بھی کیا، رسول کو اس کے گھر سے نکال دینے کا ارادہ بھی کیا، اس کے بعد انہوں نے جنگ کا بھی آغا ز کیا تو حکم ہوا کہ اب ان کے خلاف تم بھی جنگ کرو۔ان آیات میں صرف طعن فی الدین کرنے کی کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی اسلام ایسی نا انصافی کی کوئی تعلیم دیتا ہے کہ کوئی زبان کا استعمال کرے تو آپ اس کے سامنے تلوار سونت لیں۔اسلام نے ہمیشہ مخالفین کے خلاف اس وقت تلوا اٹھانے اور