اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 201
201 جنگ کرنے کا حکم دیا ہے جب مخالف نے پہلے اسلام کے خلاف تلوار اٹھائی اس جگہ بھی یہی مضمون دکھائی دیتا ہے۔اور ان آیات کے کسی بھی حصہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صرف طعن فی الدین کے نتیجہ میں کسی کو قتل کرنے کا قرآن کریم حکم دیتا ہے۔چوتھی دلیل امام ابن تیمیہ قرآن کریم سے چوتھی دلیل دیتے ہوئے یہ آیت پیش کرتے ہیں۔الَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ءَ ذلِكَ الْخِزْيُّ الْعَظِيمُ (التوبة آيت ۶۳) رح ط یعنی۔کیا ان کو معلوم نہیں کہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے اس کے لئے جہنم کی آگ ( مقدر ) ہے وہ اس میں رہتا چلا جائے گا اور یہ بڑی بھاری رسوائی ہے۔اس آیت پر بحث کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ نے اس سے یہ دلیل لی ہے کہ جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو وہ گو یا نقص عہد کرتا ہے اس لئے ایسا شخص واجب القتل ہے۔دیکھا جائے تو اس آیت سے اوپر والی آیات اور بعد والی آیات جن پر پہلے بحث ہو چکی ہے منافقین کے بارے میں ہیں کہ وہ کس کس طرح سے رسول کریم علیم کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور یہ آیت ان آیات کے درمیان آئی ہے اس میں بھی اسی مضمون کو بیان کیا جارہا ہے اور یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ جو منافقین ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ یہ یادرکھیں کہ ان کے اعمال کے نتیجہ میں ان کے لئے جہنم کا عذاب مقدر کیا جا چکا ہے۔اور جسے جہنم کا عذاب دیا جائے اس کے لئے اس سے زیادہ اور کیا رسوائی ہوسکتی ہے لیکن یہاں یہ کہنا کہ رسوا کن عذاب کا مطلب یہ ہے کہ ان کو قتل کیا جائے یہ بات بالکل بھی درست دکھائی نہیں دیتی۔اور قرآن کریم کی اس آیت کے کسی بھی لفظ سے یہ مضمون نہیں نکلتا کہ جس سزا