اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 191 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 191

191 والے تھے اور لڑائی کرنے والوں کو دنیا کی کوئی حکومت اپنے ملک میں نہیں رہنے دیتی۔یہاں کسی شخص کو شبہ ہو سکتا ہے کہ مکہ والوں کو چار مہینے کے بعد نکنے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا حکم قرآن میں کہیں نہیں بلکہ چار مہینے کی اجازت کا ذکر ہے کہ چار مہینے تک پھر کر دیکھ لو کہ عرب پر اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے اور تمہارے جو اعتراضات تھے وہ غلط ثابت ہو گئے ہیں۔باقی رہا یہ کہ اس کے بعد کیا ہوگا اس کا قرآن کریم میں کوئی ذکر نہیں۔لیکن یہ بھی یادر کھنا چاہئے کہ اگر فرض کیا جائے کہ ان کے نکالنے کا حکم تھا اب بھی جن لوگوں کو نکالنے کا حکم تھا یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے محمد رسول اللہ علی اور آپ کے صحابہ کو مکہ سے نکالا تھا حالانکہ وہ بھی مکہ کے شہری تھے پس یہ حکم کوئی ظلم نہیں بلکہ جو کچھ انہوں نے کیا ویسا ہی ان کے ساتھ معاملہ کیا گیا۔پھر یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ ان مشرکوں کی اولاد کو خود رسول کریم علی نے مکہ میں رہنے کی اجازت دی تھی۔چنانچہ ابو جہل جو سب سے بڑا مشرک اور دشمن اسلام تھا فتح مکہ کے موقعہ پر اس کے بیٹے عکرمہ نے بھاگ کر ایسے سینا جانے کا ارادہ کیا تو اس کی بیوی رسول کریم علی کے پاس آئی اور اس نے کہا یا رسول اللہ آپ کے بھائی یعنی قومی بھائی آپ کے ملک میں رہے تو اچھا ہے یا عیسائیوں کے ملک میں چلا جائے تو اچھا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے تو اسے کوئی نہیں نکالا۔اس نے کہا یا رسول اللہ وہ ڈر کے مارے چلا گیا ہے کیا میں اسے واپس لے آؤں؟ آپ نے فرمایا لے آؤ۔پھر اس نے کہا یا رسول اللہ ! وہ بڑا با غیرت آدمی ہے وہ اس بات کو پسند نہیں کرے گا کہ جب تک اس کی سمجھ میں نہ آئے وہ زبر دستی اسلام قبول کرے۔کیا وہ مشرک ہوتے ہوئے بھی آپ کی حکومت کے نیچے رہ سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ رہ سکتا ہے۔تب وہ گئی اور عکرمہ کو سمجھا کر لے آئی پہلے تو اس نے اعتبار نہ کیا مگر پھر بیوی کے اصرار پر