اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 185
185 تاویل کی جائے ، بنا بریں اگر دوبارہ زمئی بن جائے تو اسے سزادی جائے گی، مگر قتل نہیں کیا جائے گا۔جن لوگوں کا موقف یہ ہے کہ اسلام لانے سے اس سے قتل ساقط ہو جاتا ہے وہ اس قسم کے دلائل پیش کرتے ہیں جو ہم نے مسلم کے بارے میں پیش کئے ہیں۔ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ کا فرا گر اسلام لائے تو گالی کی سزا اس سے ساقط ہو جائے گی۔اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ صحابہ نے ذکر کیا ہے کہ جب بھی وہ ایسا کرے گا تو وہ عہد شکنی کرنے والا محارب ہوگا اور ظاہر ہے کہ جو شخص جنگ کرے اور عہد توڑے پھر مسلمان ہو جائے تو اس کا خون اور مال محفوظ ہو جاتا ہے، بکثرت مشرکین ایسے تھے جو مختلف طریقوں سے رسول کریم عالم کی ہجو کیا کرتے تھے ، پھر اسلام لا کر اپنا خون اور مال بچالیا کرتے تھے، مثلاً ابن الزبعری ، کعب بن زبیر، ابوسفیان بن حارث و غیر ہم، اگر چہ یہ لوگ محارب تھے مگر معاہدہ نہ تھے، یہ اس امر کی دلیل ہے کہ حقوق العباد ، جن کو کا فر حلال سمجھ کر انجام دیتا ہے، جب وہ اسلام لے آئے تو حقوق اللہ کی طرح اس سے ساقط ہو جاتے ہیں۔اسی لئے تمام مسلمان کتاب وسنت کے پیش نظر اس امر پر متفق چلے آتے ہیں کہ حربی کافر جب مسلمان ہو جائے تو ماضی میں مسلمانوں کا خون بہانے، ان کا مال لینے اور ان کی عزت کو بٹہ لگانے کی وجہ سے اس پر گرفت نہیں کی جائے گی، اور ذمی جب رسول کریم معلم کو گالی دیتا ہے تو وہ اسے حلال سمجھتا ہے اور ذخمی ہونے سے اس پر لازم نہیں کہ وہ اسے حرام تصور کرے، چنانچہ جب وہ اسلام لائے گا تو اس کی وجہ سے اسے پکڑا نہیں جائے گا، بخلاف ازیں مسلمانوں کی جو خونریزی وہ کرتا ہے یا ان کا مال لیتا ہے یا ان کو بے آبرو کرتا ہے،عقد ذمہ ان سب کو اس پر حرام ٹھہراتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح ذمی کا خون و مال اور آبر و مسلمان پر