اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 184
184 جائیں۔اور مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر لیں۔وہ لوگ جو جزیہ پر راضی ہو جاتے ہیں وہ ذمّی کہلاتے ہیں۔ذمی کے لئے مسلمانوں کا یہ حق ہے کہ وہ اس کو پوری طرح سے امان دیں گے۔اور ذقی کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے عہد و پیمان کی پابندی کرے گا۔اگر کوئی ذقی مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے اپنے عہد کو توڑتا ہے مثلا کفار کے ساتھ پیل کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے یا مسلمانوں میں فتنہ انگیزی کرتا ہے یا رسول کریم یا مہات المومنین کے بارے میں گستاخی کرتا ہے یا گالی دیتا ہے تو اسے اس جگہ پر کھڑا سمجھا جائے گا جس پوزیشن میں وہ جزیہ دینے کے معاہدہ سے پہلے کھڑا تھا۔اسے ان لوگوں میں شامل سمجھا جائے گا جن سے جنگ کی جاسکتی ہے۔لیکن اگر وہ شخص جس نے عہد توڑا ہے اپنے 71 اس فعل سے توبہ کرلے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ یہ بھی دیکھنے والی بات ہے۔امام ابن تیمیہ نے اس سلسلہ میں ایک عنوان باندھا ہے کہ وئی اگر رسول کریم میں تعلیم کو گالی دے کر تو بہ کر لے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ مسئلہ زیر قلم میں ہم نے تین اقوال ذکر کئے ہیں۔قول اول X اسے ہر حال میں قتل کیا جائے ، امام احمد کا مشہور مذہب یہی ہے، امام مالک کا مذہب بھی یہی ہے، الا یہ کہ پکڑے جانے کے بعد وہ تو بہ کرلے، امام شافعی کے اصحاب کا بھی ایک قول یہی ہے۔قول دوم X اسے قتل کیا جائے ، الا یہ کہ اسلام لا کر توبہ کرلے، امام مالک اور احمد کی بھی رویت یہی ہے۔قول سوم X اسے قتل کیا جائے بجز اس صورت کے جبکہ وہ اسلام لا کر توبہ کر لے یا حسب سابق ذمی بن جائے ، امام شافعی کے کلام کا عموم بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔الا یہ کہ اس کی