اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 183 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 183

183 سے لڑنے کے لئے مامور ہیں ، اور جن کفار سے بھی ہمیں لڑنے کا حکم دیا گیا ہے جب ہم ان پر قابو پالیں تو انہیں قتل کردیں گے، نیز یہ کہ جب ہم ان کے خلاف لڑنے کے لئے اس حد تک مامور ہیں تو اس سے کم درجے کا کوئی معاہدہ ہم ان سے نہیں کریں گے اور اگر کریں گے تو یہ 66 معاہدہ فاسد ہو گا اور وہ بدستور مباح الدم والمال رہیں گے۔“ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحه ۵۱،۵۰) اسی طرح پیر زادہ شفیق الرحمن شاہ صاحب الڈ راوی نے بھی اس آیت کو پیش کر کے امام ابن تیمیہ کی کتاب سے ہی درجہ بالا حوالہ پیش کیا ہے۔اس کے علاوہ یہ حوالہ بھی پیش کرتے ہیں اگر کوئی ذمّی ) اللہ اور اس کے رسول صلیم کی شان میں ایسے الفاظ کہے جو سابقہ کفریہ عقیدہ وکلام کے علاوہ ہیں ، تو معاہدہ زمیت ٹوٹ جائے گا۔امام شافعی کے اکثر شاگردوں کا یہ خیال ہے کہ اگر معاہدہ میں اس کی شرط لگائی گئی ہو تو معاہدہ ٹوٹ جائے گا، کیونکہ یہ معاہدہ کی خلاف ورزی ہوگی، ورنہ نہیں ٹوٹے گا“ شاتم رسول کی شرعی سز ا صفحہ ۱۸۰) سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس آیت کے بارے میں تفصیل جزیہ اور ذمی کی بحث میں گزر چکی ہے اسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں بس اس قدر بیان کرنا ہی کافی ہے کہ کسی کو اس آیت سے یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ اسلام ہر اہل کتاب سے ہر وقت اور ہر جگہ بنا کسی وجہ کے جنگ کا حکم دیتا ہے۔جنگ کس صورت میں جائز ہوگی اس کا ذکر قرآن کریم کی دوسری آیات میں موجود ہے۔ہاں جب جنگ جاری ہو گئی تو اس وقت اہل کتاب سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے کہ یا تو وہ اسلام لے آئیں یا پھر وہ اپنی امان کی خاطر جز یہ دینے پر رضامند ہو