اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 171 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 171

171 قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرَّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولَهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَبَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدِوَهُمْ صَغِرُونَ ( التوبة آیت ۲۹) یعنی جولوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ یوم آخرت پر اور نہ اسے جسے اللہ اور رسول نے حرام قرادیا ہے حرام قرار دیتے ہیں اور نہ سچے دین کو اختیار کرتے ہیں۔یعنی وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی ہے ان سے جنگ کرو جب تک کہ وہ اپنی مرضی سے جزیہ ادا نہ کریں اور وہ تمہارے ماتحت نہ آجائیں۔قرآن کریم کی اس آیت سے کسی کو یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ یہود سے یا کسی اور قوم سے بنا کسی دلیل کے جنگ جائز ہے جنگ کی جو شرائط ہیں ان میں سے ایک کا تو او پر ذکر کیا گیا ہے کہ جنگ کی ایسی صورت میں اجازت دی گئی ہے کہ جب دوسرا جنگ مسلط کر دے اور مسلمانوں کو یہ اجازت ہے کہ وہ ایسی صورت میں دفاعی جنگ کریں گے۔پس اگر یہود یا کوئی دوسری قوم بھی حملہ کرے تو یہ بتایا گیا ہے کہ پھر ان سے جنگ کرو اور اس وقت تک کرو کہ وہ مغلوب ہو جائیں اور شکست کھا کر جزیہ دینے کے لئے تیار ہو جائیں۔تو فرمایا کہ پھر لڑائی کولمبا نہ کرو بلکہ ان کی پہلی غلطی کو معاف کردو۔وَهُمُ صَاغِرُونَ کے معنے مفسرین نے یہ کئے ہیں که جزیہ دیتے وقت بہت تذلیل اختیار کریں۔لیکن اس آیت کا یہ مطلب نہیں صرف یہ مطلب ہے کہ وہ عن یں جزیہ دیں یعنی اپنی مرضی سے اور شکست کھا کر اس کا اقرار کریں تو ان سے جزیہ کی شرط قبول کرلور ڈ نہ کرو اور لڑائی کو لمبا نہ کرو۔پس یہ احسان ہے ظلم نہیں۔صَاغِرُونَ سے اس طرف اشارہ ہے کہ چونکہ وہ شکست قبول کر چکے ہیں اس لئے وہ اس کے متعلق معاہدہ کریں۔