اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 145
145 ” جب آپ کے حکم کی خلاف روزی کرنے والے کو کفر وشرک اور عذاب الیم سے ڈرایا گیا ہے تو اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ کے حکم کی خلاف روزی کفر یا عذاب الیم تک پہنچنے والی ہے۔ظاہر ہے کہ عذاب الیم تک پہنچانا محض معصیت کی وجہ سے ہے۔اور کفر کی وجہ معصیت کے ساتھ ساتھ اس حکم دینے والے رسول علم کی تحقیر واستخفاف بھی شامل ہو جاتا ہے۔پھر اس فعل کی سزا کیا ہوگی جو اس سے شدید تر ہو، مثلاً آپ کو گالی دینا، آپ کی تحقیر کرنا وغیرہ ( شاتم رسول کی شرعی سز ا صفحہ ۱۷۳‘ والصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ (۱۱۳ اس میں ایک بات یہ بھی سمجھنے والی ہے کہ اس میں رسول کے بلانے کا ذکر ہے کہ جب وہ بلائے اور اب اگر رسول ہی نہیں تو گویا یہ حکم مفقود ہو گیا۔ایسی صورت میں اس کا اطلاق رسول کی اپنی زندگی تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔اب جو بات رسول کی زندگی تک ہی خاص ہو اس بات کو رسول کی زندگی کے بعد کس طرح قابل عمل سمجھا جا سکتا ہے۔؟ یہ ایک الگ بات ہے کہ فیضان نبوت ورسالت جاری و ساری ہونے کے نتیجہ میں قرآن کریم کا ہر حکم قیامت تک قابل عمل ہے اور ر ہے گا اور اس نبی کے ظل اس کے مصداق ہو نگے۔العرض اس آیت میں بھی ایسا کوئی حکم دکھائی نہیں دیتا کہ جو رسول کے بلانے کو عام لوگوں کا بلا نا خیال کرے تو وہ کافر ہو کر واجب القتل ہوگا۔۔آٹھویں دلیل کے طور پر قرآن کریم کی یہ آیت پیش کرتے ہیں کہ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللهِ وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ اَبَدًا اِنَّ ذَالِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللهِ عَظِيمًا (الاحزاب آیت ۵۴)