اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 146
146 یعنی اور اللہ کے رسول کو تکلیف دینا تمہارے لئے جائز نہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ تم اس کے بعد اس کی بیویوں سے کبھی بھی شادی کرو۔یہ بات اللہ کے فیصلہ کے مطابق بہت بری ہے۔امام ابن تیمیہ نے سورت الاحزاب کی آیت نمبر ۵۴ کا آخری حصہ اس جگہ پیش کر کے اس سے استدلال کیا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلیم کی ازواج کے ساتھ نکاح کرنے کو منع کیا ہے اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو گستاخ رسول کہلائے گا اس کو قتل کر دیا جائے۔اور اپنے استدلال کی تائید میں صحیح مسلم کی ایک حدیث پیش کرتے ہیں کہ آنحضرت علی نے الزام تراشی کرنے والے ایک شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔لیکن اس حدیث سے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ الزام تراشی کرنے والے کو قتل کر دیا گیا تھا۔امام ابن تیمیہ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں اس آیت میں امت پر ہمیشہ کے لئے نبی کی بیویوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔کیونکہ اس سے آپ صل اللہ کو ایذا پہنچتی ہے۔پھر اس کی حرمت کی عظمت کی وجہ سے اس کو اللہ کے نزدیک عظیم جرم قراردیا گیا۔ذکر کیا گیا ہے کہ یہ آیت تب اتری جب بعض لوگوں نے کہا اگر رسل کریم یا لیلی و وفات پاگئے ہوتے تو حضرت عائشہ عقد ثانی کرلیتیں، جو شخص آپ ماشیم کی بیویوں یالونڈیوں کے ساتھ نکاح کرے تو اس کی سزا قتل ہے۔یہ حرمت نبوی کو توڑنے کی سزا ہے تو قیاس بریں بنی کو گالیاں دینے والا بالا ولی اس سزا کا مستحق ہے۔“ ( الصارم المسلوم على شاتم الرسول صفحہ ۱۱۶) سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ امام ابن تیمیہ نے قرآن کریم کی یہ پوری آیت یہاں درج نہیں کی ہے جب کہ اس آیت میں بہت سے احکامات بیان کئے گئے ہیں۔اس آیت کے