اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 144
144 بڑا ہوتا ہے یہ کہ ان سے اس وقت تک لڑو کہ فتنہ ختم نہ ہو جائے حالانکہ یہ مضمون اس آیت میں بیان ہی نہیں کیا جار ہا ہے بلکہ ایک اصول ھدایت دی گئی ہے کہ رسول کے بلانے کومعمولی خیال نہ کرو اس کا تمہیں بلا نا عام لوگوں کے بلانے کی طرح نہیں ہے۔اس کا تمہیں بلانا کیسا ہے اسی مضمون کو قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ اس طرح سے بیان کیا گیا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوالِلهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال آیت ۲۵) یعنی اے مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی بات سنو جبکہ وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے پکارے۔اصل مضمون ہے اس لئے یہ کہا گیا ہے کہ جب بھی تمہیں رسول بلائے تو اس کے بلانے کو عام آدمی کے بلانے کی طرح نہ سمجھو بلکہ اس کا بلانا اس لئے ہے تا کہ وہ تمہیں زندہ کرے۔جوانسان روحانیت سے خالی ہوتے ہیں وہ مردوں کی طرح ہیں جب ان کو رسول بلا تا ہے اور وہ رسول کی بات سنتے ہیں تو رسول ان میں روحانیت داخل کر کے انہیں روحانی طور پر زندہ کرتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ ایسے لوگ جو رسول کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ ہی اس بات سے ڈرا رہا ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ کی طرف سے تمہارے پر کوئی آفت نازل ہوگی یا دردناک عذاب ان کو پہنچے گا۔اس جگہ بندوں کو کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ وہ ان کو حکم عدولی کی بنا پر کسی کو قتل کردیں۔کتاب ”شاتم رسول کی شرعی سزا کے مصنف نے بھی امام ابن تیمیہ کی طرح اس آیت کو ساتویں دلیل کے طور پر پیش کیا ہے نیز امام ابن تیمیہ کی کتاب کے حوالہ سے درج کرتے ہیں