اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 141
141 راستہ سے گمراہ کر دیا۔اے ہمارے رب ان کو ڈہرا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت ڈال۔یا انہیں اپنی رحمت سے دور کر دے۔) ( الاحزاب آیت ۶۷ تا ۶۹ ) اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتا ہے اور جنتی لوگ دوزخیوں سے کہیں گے کہ ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اس کو تو ہم نے سچا پالیا، کیا تم نے بھی اس وعدہ کو جو تمہارے رب نے کیا تھا سچا پا لیا اس پر وہ ( دوزخی ) کہیں گے ہاں! پس ایک پکارنے والا ان کے درمیان زور سے پکارے گا۔کہ ان ظالموں پر خدا کی لعنت ہو۔ان حوالوں کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے لعنت کے لفظ سے کسی ایک جگہ سے بھی یہ معنی اخذ نہیں کئے جاسکتے کہ جس پر اللہ کی اور رسول کی لعنت ہو وہ کافر ہو جاتا ہے لہذا اسے قتل کر دیا جائے لعنت سے مراد اللہ کی رحمت سے دوری کی سزا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے پر رکھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رحمت نازل نہیں کرتا۔ان میں یہود بھی شامل ہیں استہزاء کرنے والے بھی شامل ہیں۔انبیاء کو دکھ دینے والے اور ان کو تکالیف دینے والے بھی شامل ہیں اور پھر اللہ کی رحمت سے دوری اس دنیا میں بھی ہوگی اور مرنے کے بعد بھی ہوگی پھر بعض پر تو ملعون بھی لعنت کرتے ہوئے سنائی دینگے جیسا کہ قرآن کریم کی آیات سے ظاہر ہے۔الغرض اللہ کی رحمت سے دور ہونا اور بات ہے لیکن اللہ کی رحمت سے دوری والے کو قتل کر دینا یہ قرآنی تعلیم کے بالکل منافی ہے۔اور ایسی کوئی سند نہیں ملتی کہ ایسے شخص کو قرآن کریم قتل کرنے کاحکم دیتا ہے۔چھٹی دلیل کے طور پر یہ بات بیان فرمائی ہے کہ اپنی آواز کو رسول کی آواز سے زیادہ بلند نہ کرو۔اس سلسلہ میں قرآن کریم کی آیت يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ الدِّينِ وَلَا تَجْهَرُ والهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ٥