اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 135 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 135

135 یعنی۔پس تیرے رب کی قسم جب تک وہ ( ہر ) اس بات میں جس کے متعلق ان میں جھگڑا ہو جائے تجھے حکم نہ بنائیں ( اور ) پھر جو فیصلہ تو کرے اس سے اپنے نفسوں میں کسی قسم کی تنگی نہ پائیں اور پورے طور پر فرمانبردار نہ ) ہوجائیں ہر گز ایماندار نہ ہو نگے۔اس کے علاوہ سورۃ النور کی آیات نمبر ۴۸ تا ۵۲ بھی پیش فرماتے ہیں۔اس پر اپنا نقطع نظر اس طرح بیان کرتے ہیں کہ۔مذکورہ صدر آیات میں بیان فرمایا کہ جو شخص اطاعت رسول سے منہ موڑے اور آپ کے حکم سے اعراض کرے تو وہ منافق ہے اور مومن نہیں ، مومن وہ ہے جو کہتا ہے کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔جب رسول کریم علیم کی اطاعت سے اعراض کرنے اور اپنا فیصلہ شیطان کی طرف لیجانے سے ایمان زائل ہو جاتا ہے اور نفاق کا اثبات ہوتا ہے ، حالانکہ یہ ترک محض ہے ، جس کا سبب حرص و ہوا کی قوت ہے تو آپ کی تحقیر اور سب و شتم کیونکر کفر کا باعث نہ ہوگا“ ( الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۸۸) سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی کے بارے میں یہ علم ہو جائے کہ وہ مومن نہیں تو کیا اسے قتل کیا جا سکتا ہے اگر یہ بات درست تسلیم کر دی جائے تو پھر سب سے پہلے آنحضور بیل یا پیام کو ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دینا چاہئے تھا جن کے بارے میں اللہ نے یہ گواہی دی تھی کہ یہ مومن نہیں ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قَالَتِ الْأَعْرَابُ ا مَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ وَإِنْ تُطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلتُكُمْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِیمه (الحجرات آیت (۱۵) یعنی۔اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے تو اُن سے کہہ دے تم حقیقتہ ایمان نہیں