اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 134 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 134

134 قرآن کریم کی اس آیت کی تشریح میں ایک حدیث بھی پیش کی گئی ہے ایک شخص بھری مجلس میں آنحضرت علی کے خلاف گستاخی کرتا ہے حضرت عمررؓ اس گستاخی کو قابل سزا سمجھتے ہیں لیکن آنحضرت علی نے اپنے اسوہ سے یہ ثابت فرمایا کہ کہ ایسے گستاخ کی سز اقتل نہیں ہے ورنہ آپ ضرور ایسے گستاخ کے قتل کا حکم صادر فرماتے۔لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔دوسری بات جو مولانا صاحب نے حدیث کا ترجمہ کرنے کے دوران اپنی طرف سے شامل کی ہے اس کا اس حدیث میں کوئی اشارہ بھی نہیں ملتا۔جیسا کہ مولانا صاحب نے لکھا ہے حضور صلیم نے مصلحتاً اپنے حق میں بذات خود تصرف فرماتے ہوئے وقتی طور پر حضرت عمر کو اس گستاخ کو قتل کرنے سے منع فرما دیا اب اس میں دیکھیں ”مصلحتا “ کا لفظ اپنی طرف سے شامل کر لیا وقتی طور پر کے الفاظ “ اپنی طرف سے شامل کر لئے ایسے الفاظ حدیث شریف میں موجود نہیں وہاں صرف یہ الفاظ ہیں جوموصوف نے نیچے لکھے ہیں کہ فقال له دعہ آپ نے انہیں فرمایا اسے چھوڑ دو۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس وقت مصلوح اور وقتی طور پر فرمایا تھا کہ چھوڑ دو تو کیا بعد میں آپ نے اسے قتل کرنے کا کوئی حکم صادر فرما یا ہر گز نہیں۔تو قرآن کریم اور حد بہت شریف بھی اس بات کو بیان کرتی ہے کہ گستاخ رسول کی سز اقتل نہیں۔- چوتھی دلیل کے طور پر امام ابن تیمیہ نے قرآن کریم کی جو آیت پیش کی ہے وہ اس طرح ہے فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (النساء آیت ۶۶)