اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 131
131 والے یا ٹھٹھہ کرنے والے کسی ایک منافق کو بھی قتل کرنے کا حکم دیا؟ آپ کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے کوئی ایک واقعہ بھی دکھائی نہیں دیتا۔جس کام کو رسول خداصلی سلیم نے نہیں کیا تو آپ کے بعد کسی کا کیا حق بنتا ہے کہ وہ ایسا حکم جاری کرے جو رسول خدا صلیہ سے ثابت ข نہیں۔بلکہ امام ابن تیمیہ نے تو آپ ہی تحریر فرمایا ہے کہ ان لوگوں نے جب رسول کریم ملی اور آپ کے اہل علم صحابہ کی تحقیر اور مذمت کی اور آپ کی باتوں کو اہمیت نہ دی تو اللہ نے خبر دی کہ ان لوگوں نے کفر کا ارتکاب کیا ہے اگر چہ یہ بات انہوں نے مذاق کے طور پر کہی تھی ، پھر جو چیز اس سے شدید تر ہوگی اس کا کیا حال ہوگا ؟ ان پر حد اس لئے نہ لگائی گئی کہ ابھی منافقین کے خلاف جہاد کرنے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، بخلاف ازیں آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ ان کی ایذارسانی کو نظرانداز کردیں، نیز اس لئے کہ آپ کو یہ حق حاصل تھا کہ آپ عمل اللہ اپنی تحقیر کرنے والوں کو معاف کر دیں۔“ ( الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحه ۸۱) تاریخ بتاتی ہے کہ ان وجوہات کی بنا پر جو اوپر بیان کی گئی ہیں بعد میں بھی آنحضور میلیم نے کسی منافق یا کافر کوقتل کرنے کا حکم صادر نہیں فرمایا بلکہ ہمیشہ ہی نرمی رافت اور عفو کا سلوک فرمایا۔۳۔اسی طرح قرآن کریم کی ایک تیسری آیت طعن کرنے والے کے کافر ہو جانے کے تعلق سے یہ پیش کرتے ہیں کہ وَمِنْهُم مَّنْ يَلْمِرُكَ فِي الصَّدَقَتِ (التوبة آيت (۵۸) اور ان میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو صدقات کے بارے میں آپ کو طعن دیتے ہیں لمز" کے معنی عیب اور طعن کے ہیں۔مجاہد کہتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ تجھ پر تہمت