اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 12
12 یعنی ( کہتے ہیں کہ ) ہم اس کے رسولوں میں سے ایک (دوسرے) کے درمیان (کوئی) فرق نہیں کرتے اور یہ (بھی) کہتے ہیں کہ ہم نے ( اللہ کاحکم ) سن لیا ہے اور اسکے دل سے فرمانبردار ہوچکے ہیں۔مذاہب کی تاریخ پر غور کیا جائے تو ہمیں کوئی بھی دور وجود انبیاء سے خالی دکھائی نہیں دیتا ان انبیاء کا آنا بھی ایک بہت بڑے مقصد کے لئے تھا۔اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ان کی عقل اور کچھ پوچھ کے مطابق ہی اپنے نبیوں کے ذریعہ اپنا عرفان پہنچایا اور وہ تعلیم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دینا چاہتا تھا انہیں انبیاء کے ذریعہ ہی تھوڑی تھوڑی کر کے اپنے بندوں کو دی۔جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی کامل معرفت دینا چاہی تو اس نے کامل و اتم اور اکمل نبی کو ایک کامل اور مکمل تعلیم دیکر دنیا میں مبعوث کیا۔وہ نبی جس پر کمال دین ہوا اور ایک کامل کتاب جس نبی کو عطا کی گئی وہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطف علی ہیں اور وہ کامل کتاب قرآن کریم ہے۔قرآن کریم ایک ایسی کامل اور اتم اور اکمل شریعت ہے جس میں قیامت تک پیش آنے والے واقعات اور مسائل کا حل موجود ہے۔اسی پر بس نہیں بلکہ آنحضرت میلیم نے اس شریعت پر عمل کر کے ہمیشہ ہمیش کے لئے دنیا والوں کے سامنے ایک لائحہ عمل پیش کر دیا۔قرآن کریم میں تمام انبیاء پر ایمان لانا ضروری قرار دیا گیا ہے اور کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی ایک نبی کا بھی انکار کرے۔اسی طرح کسی نبی کے درمیان اس پر ایمان لانے اور اس کی تکریم کرنے کے لحاظ سے تفریق نہیں کی جاسکتی۔ہاں یہ بات اپنی جگہ ہے کہ انبیاء کو ان کے مرتبہ اور مقام کے لحاظ سے ایک دوسرے پر فضیلت دی گئی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض بنی تشریعی ہیں اور بعض غیر تشریعی۔بعض آزاد نبی ہیں بعض تابع لیکن ان پر ایمان