اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 118 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 118

118 دلیل دی گئی ہے وہ بالکل الٹ ٹھہرتی ہے۔دوسری بات یہ کہ جو کافر ہو جائے اس کا خون بھی کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔کیونکہ قرآن کریم کسی کے ایمان لانے کے بعد اس کے انکار اور کفر کی بنا پر بھی اسے قتل کا کوئی حکم نہیں دیتا بلکہ یہ بات بیان کرتا ہے کہ پہلے ایمان لائے پھر انکار کر دیا پھر ایمان لائے پھر انکار کر دیا پھر وہ کفر میں بہت ہی آگے بڑھ گئے ایسے لوگوں کو بھی سزا دینے کا کام اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا اور کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ کسی کے کافر ہو جانے کی بنا پر اس کو قتل کر دیا جائے ایسا کوئی حکم قرآن کریم میں موجود نہیں۔اور نہ ہی آنحضرت نے کسی شخص کو محض انکار اور کھر کی بنا پر قتل کا کوئی حکم دیا ہے۔اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں کہ ہم نے نجد کی طرف آنحضرت علی کے ساتھ جہاد کیا۔اتفاق سے دو پہر کا وقت ایسے جنگل میں آیا جہاں کانٹے دار درخت بہت تھے ، آپ ایک درخت کے سایہ میں اترے اور تلوار درخت سے لٹکا دی۔تو آپ کے ہمراہی بھی جدا جدا درختوں کے سایہ میں اترے ،اسی اثناء میں ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت علی کی ہم کو بلا رہے ہیں، خیر ہم گئے، دیکھا تو ایک گنوار آپ کے سامنے بیٹھا ہے آپ نے فرمایا ابھی یہ گنوار میرے پاس آیا میں سورہا تھا اس نے کیا کیا میری تلوار سونت لی میں جاگا تو کیا دیکھتا ہوں ننگی تلوار لئے میرے سر پر کھڑا ہے کہنے لگا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا، میں نے کہا اللہ بچانے والا ہے یہ سنتے ہی اس نے تلوار نیام میں کر لی اور بیٹھ گیا دیکھو یہ بیٹھا ہے۔جابر نے کہا آنحضرت علی نے اس کو کوئی سزا نہ دی۔( صحیح بخاری جلد دوم کتاب المغازی باب غزوة ذات الرقاب حدیث ۱۲۹۸) یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جنگ کا ماحول ہے ایک شخص آپ ہی کی تلوار لیکر آپ پر سونت کر کھڑا ہو جاتا ہے ایسا مجرم توجنگی مجرم کہلاتا ہے اور ایسے مجرموں کی سز اقتل ہوا کرتی ہے اور پھر وہ