اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 117
117 کینہ سے کام لے۔اس میں توہین رسالت صاف دکھائی دیتی ہے لیکن قرآن کریم نے ایسے شخص کے قتل کا کوئی حکم نہیں دیا بلکہ اس کے لئے درد ناک عذاب کی وعید ہے اور اسے اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔بندوں کو یہ حکم نہیں دیا کہ وہ ایسا کرنے والے کو قتل کر دیں۔امام ابن تیمیہ نے اس آیت کو بیان کر کے اس سے یہ دلیل پکڑی ہے کہ شاتم رسول کرنے والا کافر ہے چونکہ اس نے کفر کیا ہے اس لئے وہ مخالفت میں دشمنوں کے ساتھ ہو کر جنگ کرے گا۔یہ ایک موہوم سی بات دکھائی دیتی ہے جو ان کا اپنا خیال کہلا سکتا ہے لیکن اس کی اصل اس آیت میں موجود نہیں۔اس پر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کہنے والے منافقین تھے جو آپ کی مجلسوں میں بیٹھتے بھی تھے اور ایسی باتیں بھی کرتے تھے۔اور اپنی بات کو تقویت دینے کے لئے جن واقعات کو پیش کرتے ہیں ان کا نتیجہ اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے۔آپ لکھتے ہیں ابو قحافہ نے آنحضرت علی تعلیم کو گالی دی تو (ان کے بیٹے ) ابوبکر صدیق نے اسے قتل کرنا چاہا عبد اللہ بن ابی نے رسول کریم معلم کی تحقیر کی تو اس کے بیٹے نے رسول کریم سے اپنے باپ کو قتل کرنے کی اجازت مانگی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والا کافر اور مباح الدم ہے۔“ الصارم المسلول علی شاتم الرسول اردو ایڈ یشن صفحہ ۷۴) سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسول کریم یا لیلی نے ان لوگوں کے قتل کی اجازت دی ؟ جب اجازت ہی نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کا اس بنا پر قتل ہوا تو یہ بات کہاں سے اخذ کی جا سکتی ہے کہ یہ مباح الدم ٹھہرتے ہیں۔ہاں قتل کئے جاتے اس پر رسول خدا علی ان کو مباح الدم ٹھہراتے تو یہ بات مانی جا سکتی تھی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تو شاتم رسول کے قتل کے لئے جو