اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 115 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 115

115 عذاب کی وعید کو کافی جانا۔اگر ایسے اتہام لگانے والوں اور تو بین کرنے والوں کی سز اقتل ہوتی تو رسول کریم علیم ضرور اس کا حکم فرماتے اور ان لوگوں کو قتل کیا جاتا جنہوں نے اس تو بین کا بیڑا اٹھایا۔لیکن آپ نے ایسے تمام افراد کو معاف فرماتے ہوئے ان سے شفقت ورافت کا سلوک فرمایل اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُ والهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْض۔۔۔(الحجرات آیت ۳) یعنی اے مومنو! نبی کی آواز کے آگے اپنی آواز اونچی نہ کیا کرو۔اور نہ بلند آواز سے اس رض کے سامنے اس طرح بولا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کے سامنے بولتے ہو۔اب یہ قرآن کریم کا حکم ہے کہ جو کوئی بھی آنحضور علیم کے سامنے اونچی آواز سے بات کرے تو وہ تو ہین قرآن بھی کرتا ہے اور توہین رسول کا بھی مرتکب ہوتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آنحضرت سلم کی خدمت میں آیا۔آپ سے قرض ادا کرنے کا تقاضا کیا اور بڑی گستاخی سے پیش آیا۔آپ کے صحابہ کو بڑا غصہ آیا اور اسے ڈانٹنے لگے۔حضور نے فرمایا۔اسے کچھ نہ کہو کیوں کہ جس نے لینا ہو وہ کچھ نہ کچھ کہنے کا بھی حق رکھتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا اسے اس عمر کا جانور دید وجس عمر کا اس نے وصول کرنا ہے۔صحابہ نے عرض کیا اس وقت تو اس سے بڑی عمر کا جانور موجود ہے آپ نے فرمایا وہی دیدو۔کیونکہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنا قرض زیادہ عمدہ اور اچھی صورت میں ادا کرتا ہے۔( صحیح مسلم کتاب البیوع باب من استسلف شياً فقضى خيراً منه ) یہ حدیث اس بات کو پیش کرتی ہے کہ آنحضرت علیم کے سامنے ایک شخص نے واضح