اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 113
113 میرے قریب اس کو بٹھا دیا۔اور اس نے اونٹ کے دونوں گھٹنوں پر اپنا پاؤں رکھ دیا تا کہ وہ اچانک نہ اٹھ سکے ) چنانچہ میں اونٹ پر سوار ہو گء اور صفوان اس کے آگے آگے اُس کی مہار تھامے ہوئے چلنے لگا۔حتی کہ ہم اس جگہ پہنچے جہاں اسلامی لشکر پر وڈالے ہوئے تھا۔اس واقعہ پر اسی عبداللہ بن ابی بن سلول نے اور ان کے ساتھ اتم سطح کے بیٹے مسطح نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا پر بہتان باندھ کر آپ کی توہین کی یہ تو بین صرف حضرت ائم المؤمنین کی ہی تھی بلکہ آنحضرت صلم کی شان میں بھی گستاخی تھی کیوں کہ آپ رضی اللہ عنھا سرور کونین سلام کی زوجہ مطہرہ بھی تھیں۔جو تہمت آپ پر باندھی گئی تھی وہ بہت بڑی تھی اور اس بارہ میں بہت چرچہ ہورہا تھا اور چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں۔اسی دوران آپ بیمار بھی ہو گئیں اور فرماتی ہیں کہ میں دیکھتی تھی کہ میری بیماری کے دوران رسول کریم علیم کی وہ شفقت اور مہربانی بھی مجھے نظر نہ آتی تھی جو عموماً آپ مجھ سے فرمایا کرتے تھے۔اسی دوران آپ اپنے والد کے گھر بھی تشریف لے گئیں تا کہ حقیقت کا علم ہو سکے۔ادھر آ نحضرت بلای شمالی پر وحی کے نزول میں بھی کافی وقفہ ہو گیا تھا۔اس واقعہ پر آنحضور عالم نے حضرت علی بن طالب اور اسامہ بن زید کو بلا کر ان سے مشورہ بھی لیا۔پھر اسی دن آپ نے مسجد میں ایک تقریر بھی فرمائی جس میں آپ نے فرمایا ” مجھے میرے اہل کے بارے میں بہت دکھ دیا گیا ہے۔کیا تم میں سے کوئی ہے جو اس کا سد باب کر سکے؟ اور خدا کی قسم مجھے تو اپنی بیوی کے متعلق سوائے خیر و نیکی کے اور کوئی علم نہیں ہے۔اور جس شخص کا اس معاملہ میں نام لیا جاتا ہے اسے بھی میں اپنے علم میں نیک خیال کرتا ہوں۔اور وہ بھی میرے گھر میں میری غیر حاضری میں نہیں آیا ( بخاری کتاب المغازی باب حدیث الا فک) الغرض رسول کریم علی ایم کو آپ کی زوجہ مبارکہ پر لگائے گئے اس تہمت کے الزام سے