اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 110
110 اپنے ساتھیوں کو قتل کرواتا پھرتا ہے۔اس پر آنحضرت میم نے عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کو بلا بھیجا اور دریافت فرمایا کہ یہ کیا معاملہ ہے اس پر عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی قسمیں کھا گئے کہ ایسی کوئی بات ہی نہیں ہوئی ہے۔آپ نے اس کی اور اسکے ساتھیوں کی بات کو قبول فرمالیا۔اور زید کی بات کور د فرما دیا۔اس بات کا زید کو بہت صدمہ پہنچا۔مگر قرآنی وحی نے زید کی بات کی تصدیق فرما دی اور منافقین کو جھوٹا قرار دیا۔یہ توہین رسالت کا ایسا واقعہ ہے جس کی خدا نے تصدیق کی کہ واقعی عبد اللہ بن ابی بن سلول نے رسول خدا اصلی لیلی کی توہین کی ہے اور یہ ایسا موقعہ تھا کہ توہین رسالت کرنے والے کی سزا کا اعلان فرماتے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ آپ نے عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں کوئی ارشاد نہیں فرمایا کہ اس کو یہ سزادی جائے بلکہ آپ نے حضرت عمرؓ سے ارشاد فرمایا کہ اس وقت لوگوں کو مدینہ کے لئے کوچ کرنے کا حکم دیدو۔یہ دو پہر کا وقت تھا اور آنحضرت علیہ اس وقت کبھی بھی لشکر کو کوچ کا حکم نہیں فرماتے تھے۔اور سارا لشکر کوچ کے لئے تیار ہو گیا۔عبداللہ بن ابی بن سلول کی اس حرکت کی اطلاع جب اس کے بیٹے کو لی جس کا نام حباب تھا اور رسول اللہ علیہ نے اس کا نام بدل کر عبد اللہ رکھ دیا تھا گھبرایا ہوا آنحضرت میم کے پاس آیا یہ ایک مخلص صحابی تھے اور آنحضور علیم سے کہنے لگے۔یا رسول اللہ میں نے سنا ہے کہ آپ میرے باپ کی گستاخی اور فتنہ انگیزی کی وجہ سے اس کے قتل کا حکم دینا چاہتے ہیں۔اگر آپ کا یہی فیصلہ ہے تو مجھے حکم فرمائیں میں ابھی اپنے باپ کا سرکاٹ کر آپ کے قدموں میں لا ڈالتا ہوں۔مگر آپ کسی اور کو ایسا ارشاد نہ فرمائیں کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ کوئی جاہلیت کی رگ میرے بدن میں جوش مارے اور میں اپنے باپ کے قاتل کو کسی وقت کوئی نقصان پہنچا ہیٹھوں اور خدا کی رضا چاہتا ہو بھی جہنم میں جا گروں۔آپ نے اسے تسلی دی اور فرمایا کہ ہمارا ہر گز یہ ارادہ نہیں ہے بلکہ ہم بہر حال