اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 378
378 خلاف بدزبانی 153 - الف کی زد میں آتی ہے اور بانی اسلام کو اسلام سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا اس وجہ سے ڈویژن بینچ نے ورتمان کے مضمون نگار کو ایک سال قید بامشقت اور پانچ سوروپیہ جرمانہ اور ایڈیٹر کو چھ ماہ قید سخت اور اڑھائی سور و پیہ جرمانہ کی سزادی۔ہائیکورٹ کے سابقہ فیصلہ پر اخبار مسلم آؤٹ لک کے ایڈ میٹر سید دلاور شاہ صاحب بخاری نے 14 جون 1927ء کو مستعفی ہو جاؤ“ کے عنوان سے ایک ادا یہ لکھا جس میں ہائیکورٹ کے اس فیصلہ سے اختلاف کیا گیا تھا جس پر اخبار کے ایڈیٹر اور اس کے مالک وطابع ( مولوی نورالحق صاحب کے نام توہین عدالت ہائیکورٹ کی طرف سے نوٹس بھیجا گیا۔آپ پر مقدمہ چلا جماعت کے تعاون سے یہ مقدمہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے لڑا مضبوط دلائل پیش کرنے کے باوجو د ہر دوملزمان کو قید اور جرمانہ کی سزاد یکر انہیں جیل بھیج دیا گیا۔رنگیلا رسول کے مصنف راجپال کو 16 اپریل 1926ء میں لاہور میں ایک مسلمان نوجوان علم الدین نے قتل کر دیا جس پر آریہ دھرم والوں اور آر یہ اخبارات نے مسلمانوں اور اسلام پر یہ الزام لگانا شروع کر دیا کہ اسلام میں جواب دینے کی طاقت نہیں۔اس قتل کے بعد ملکی فضا مکدر ہو گئی۔اس پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے میدان میں اتر کر اپنے خطبات اور تقاریر کے ذریعہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم ایک دوسرے کے بزرگان کی عزت واحترام کریں اس سے ہی دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے۔( تاریخ احمدیت جلد 5) جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشوایان مذاہب کی عزت اور تکریم کو قائم رکھنے کے لئے موجودہ قانون میں اضافہ کرنے کی طرف توجہ دلائی تھی۔حضرت مصلح موعوددؓ نے بھی قانون کی دفعہ 153۔الف کے ناقص اور نامکمل ہونے کی