اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 203 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 203

203 اس آیت کے اگلے الفاظ ہیں۔وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَاباً مهین معنی اور اس نے ( یعنی اللہ نے) ان کے لئے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر چھوڑا ہے۔یادر ہے کہ لعنت کے معنی اللہ کے قرب سے دوری کے بھی ہوتے ہیں اور آیت پر اس سے قبل بھی سیر حاصل بحث ہو چکی ہے اس لئے اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔لعنت کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ اس کو قتل کیا جائے بلکہ اللہ نے خود ہی آگے اس کی تشریح بیان فرما دی ہے کہ ان کے اس فعل کی وجہ سے اللہ نے اپنے قرب سے انہیں محروم کر دیا ہے اور اللہ ہی نے ان کے لئے رسوا کر دینے والا عذاب بھی تیار کر چھوڑا ہے۔امام ابن تیمیہ نے لعنت سے اور رسوا کن عذاب سے جو یہ جواز اخذ کیا ہے کہ ایسے شخص کو قتل کر دیا جائے یہ بالکل درست نہیں۔اور اس سے یہ جو از قطعا نہیں نکالا جاسکتا کہ اس سے مراد قتل ہے۔الغرض امام ابن تیمیہ نے جن تین موضوعات کو باندھ کر شاتم رسول کی سز اقتل کے حوالہ سے قرآن کریم سے جس قدر بھی دلائل دیتے ہیں جن کو انہیں کے حوالہ سے دیگر علماء نے اپنی کتب میں پیش کیا ہے ان میں سے کسی ایک آیت سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے شاتم رسول کرنے والوں کو سزا دینے کا حق بندوں کو دیا ہے بلکہ ہر جگہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو سزا دینے کا ذمہ اپنے پاس رکھا ہے۔جس کی مثالیں قرآن کریم کے حوالہ سے ہی پیش کی گئی ہیں۔امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب میں جو بحث کی ہے اس کا جو خلاصہ نکل کر سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت ملا سلیم کو گالی دینے کے نتیجہ میں ذمتی نے اسلامی ملک میں رہنے کے لئے جو عہد کیا تھاوہ عہد ٹوٹ جاتا ہے۔تو سز ا عہد توڑنے کی ملے گی نہ کہ گالی دینے کی۔دوسرے یہ کہ عہد توڑنے کے ساتھ ساتھ اگر وہ فتنہ انگیزی کرتا ہے تو سز انقص عہد اور فتنہ پردازی کی ملے گی۔یا جو شخص بھی مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھاتا ہے اس کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کی سزا