اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 202
202 کو اللہ نے اپنے ہاتھوں میں رکھا ہے کہ وہ ان کو جہنم میں ڈال کر رسوا کرنے والا عذاب دیگا اسے وہ بندوں کے ہاتھ میں دیدے۔بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ کو رسوا کرے تو اس کے مقابلہ پر بندوں کی طرف سے کی گئی رسوائی کیا حیثیت رکھتی ہے۔کس کو عزت بخشنی ہے اور کس کو رسوا کرنا ہے اللہ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرِ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (ال عمران آیت ۲۷) یعنی۔اور تو جسے چاہتا عزت عطا کرتا ہے اور تو جسے چاہتا رسوا کرتا ہے ہر قسم کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور تو یقیناً ہر چیز پر قادر ہے۔جہاں تک منافقین کا تعلق ہے وہ بھی اگر نقص عہد کرتے ہیں اور فتنہ وفساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے فعل سے باز نہیں آتے تو وہ بھی مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں تو ان کے لئے بھی جنگ کی صورت میں مسلمانوں کے ہاتھوں رسوا کن عذاب مقدر کیا جائے گا جیسا کہ دوسرے انکار کرنے والوں اور عہد شکنی کرنے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے مقدر ہوتا ہے۔پانچویں دلیل وئی کے عہد شکنی پر سزا کی بحث میں جو پانچویں دلیل دی گئی ہے وہ یہ ہے اِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ( الاحزاب آیت ۵۸) یعنی۔وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتے ہیں اللہ ان کو ( اس ) دنیا میں اور آخرت میں اپنے قرب سے محروم کر دیتا ہے۔