اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 159
159 ان لوگوں کے جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور اللہ یقیناً بہت بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔جولوگ ایمان لانے کے بعد منکر ہو گئے ہوں پھر وہ کفر میں اور بھی بڑھ گئے ہوں ان کی تو بہ ہر گز قبول نہ کی جائے گی اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔جولوگ منکر ہو گئے ہوں اور گفر (ہی) کی حالت میں مرگئے ہوں ان میں سے کسی سے زمین بھر سونا ( بھی ) جسے وہ فدیہ کے طور پر پیش کریں ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا۔ان لوگوں کے لئے دردناک عذاب ( مقدر ) ہے اور ان کا کوئی بھی مدد گار نہ ہوگا۔ان جملہ آیات پر غور کریں تو یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ایمان کے بعد کفر اختیار کر لینے کی صورت میں اللہ نے بندوں کو کوئی اختیار نہیں دیا کہ وہ ایسے لوگوں سے اس دنیا میں کوئی بدلہ لیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی سزا کو اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور کسی کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ ایسے لوگوں کو کوئی سزا دیں۔اگر مرتد کی سز اقتل ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس جگہ اس کا ذکر ضرور فرما تا لیکن ایسا نہیں ہے۔اس جگہ ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ اس جگہ جو یہ الفاظ آئے ہیں کہ ایسے لوگوں پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو یہ لعنت میں رہیں گے اور ان پر عذاب ہلکانہ کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں کوئی ڈھیل دی جائے گی۔اس سے بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ کی فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت کا ذکر ہے تو جس پر ایسی لعنت وارد ہوتو گویا وہ اللہ کی سخت ناراضگی کا مورد ہے لہذا اسے قتل کر دینا چاہئے کیونکہ فرمایا ہے کہ انہیں کوئی ڈھیل نہیں دی جائے گی۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرند کی سز اقتل ہے۔لیکن اس جگہ ایسی کسی بات کا اشارہ تک بھی موجود نہیں کہ مرتد پر لعنت کی صورت میں قتل واجب ہو جاتا ہے۔قرآن کریم میں اور بھی بہت سے لوگوں کے لئے لعنت کا لفظ استعمال کیا ہے اگر لعنت سے مراد قتل لیا جائے تو پھر اس کی زد میں ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو