اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 152 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 152

152 یعنی۔دین کے بارے میں کوئی جبر نہیں ہے یقیناً صدایت اور گمراہی کا فرق خوب ظاہر ہو چکا ہے۔۔۔اور (لوگوں کو ) کہہ دے (کہ) یہ سچائی تمہارے رب کے طرف سے ہی ( نازل ہوئی) ہے پس جو چاہے ( اس پر ) ایمان لائے اور جو چاہے(اسکا) انکار کر دے۔غور کریں کہ قرآن کریم کی اس واضح تعلیم کے ہوتے ہوئے یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی انسان پر دین کے بارے میں جبر روا رکھی جائے۔اور اس کو اپنی مرضی سے اپنا پسندیدہ دین اختیار کرنے سے روکا جائے اور اگر کوئی ایسا کرے تو اس کو مرتد قرار دیکر اس کو قتل کرنے کا فتویٰ دیا جائے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے انبیاء نے تو کبھی ایسی تعلیم نہیں دی ، ہاں انبیاء کے مخالفین کا یہ شیوہ رہا ہے کہ انہوں نے ہی ایسے فتوے دئے اور لوگوں کو تکالیف بھی پہنچائیں اور ان کو قتل بھی کیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر دیکھ لیں وہاں بھی ہمیں فرعون کی طرف سے ایسے ہی دعوے دکھائی دیتے ہیں جیسا کہ فرمایا۔قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنْتُمُ بِهِ قَبْلَ أَنْ اذَنَ لَكُمْ إِنَّ هَذَا لَمَكْرُ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا : فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ لَأَقَطِعَنَ أَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَا صَلِّبَنَّكُمْ أَجمعين (الاعراف آیت ۱۲۵٬۱۲۴) یعنی۔فرعون نے کہا تم اس پر ایمان لے آئے پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا معلوم ہوتا ہے ) یہ ایک تدبیر ہے جو تم سب نے مل کر شہر میں بنائی ہے اس سے اس کے باشندوں کو نکال دو پس تم کو جلد ہی اس کا انجام معلوم ہو جائے گا۔میں تمہارے ہاتھوں اور تمہارے پیروں کو ( اپنی ) خلاف ورزی کی وجہ سے کاٹ دوں گا پھر تم سب کو صلیب پر لٹکا دوں گا۔قرآن کریم میں دیکھیں یہی مضمون سورت طہر آیت ۷۲ میں اور سورت الشعراء آیت ۵۰