اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 153 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 153

153 اور سورت المائدہ آیت ۳۴ میں بھی دکھائی دیتا ہے۔اب دیکھیں کہ اپنے دیرینہ مذہب کو تبدیل کرنے سے ارتداد کے نتیجہ میں نبی کے مخالفوں نے ہی ہمیشہ سزائیں سنائی ہیں اور اس پر عمل بھی کیا۔ان کے مقابلہ پر کسی ایک نبی نے بھی اپنے مذہب سے ارتداد کرنے والوں کے لئے کسی قسم کی کوئی بھی سزا مقرر نہیں کی۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج کے زمانہ میں لوگ نبی کے مخالفوں جیسے فعل کو نبی کی طرف منسوب کر کے نبی کی تو بین کرتے ہیں اور ساتھ ہی جوان کی ہاں میں ہاں نہ ملائے اس پر توہین رسالت کا فتویٰ صادر کر کے اسلام کے مخالفوں جیسا ان سے سلوک کرنا جائز قرار دیتے ہیں۔اگر آج کے علماء کی باتوں کو جو قرآن وحدیث کے صریح مخالف ہیں درست تسلیم کر لیا جائے تو ایسی صورت میں دیگر مذاہب والوں کا بھی یہ حق بنتا ہے کہ وہ بھی اسی بات کو جائز قرار دیتے ہوئے ان کے مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب میں جانے والے کے لئے یہی فتویٰ صادر کر دیں۔مثلاً ایک ہندو جو اسلامی تعلیم سے متأثر ہو کر اسلام قبول کرے تو وہ ہندوؤں کے نذدیک مرتد خیال کیا جائے گا اور اگر وہ بھی مسلم علماء کی طرح مرتد کی سزا کوقتل مانتے ہوئے اس کو مسلم کے قتل کا فتویٰ دیں تو پھر کیا یہ علماء اسلام کے خیال سے اسلامی قانون کے مطابق درست ہوگا؟۔اور جائز ہوگا کہ وہ بھی ارتداد کی سزا کے طور پر اس نو مسلم کو قتل کر دیں؟ پھر اس پر کسی مسلمان کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔اسی طرح اگر کوئی یہودی عیسائیت کی تعلیم سے متأثر ہو کر عیسائی ہو جائے یا ہندو ہو جائے تو ان یہودیوں کو بھی پھر علماء کے پیش کردہ اسلام کی رو سے کہ مرتد کی سزا قتل ہے یہ حق ہوگا کہ ان کے دین کو چھوڑ کر جانے والے کو قتل کر دیں۔اسی طرح اگر ہر مذہب والے کو اس اصول پر عمل کرنے کا حق دیدیں کیونکہ علماء اس کو اسلام کا نہ ٹوٹنے والا اصول تسلیم کرتے ہیں تو پھر