اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 100 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 100

100 تو بین رسالت پر علماء کرام کا مؤقف تو بین رسالت پر قرآن کریم کی تعلیمات کا ایک مختصر سانمونہ گزشتہ صفحات میں پیش کیا گیا اس پر تفصیلی بحث انشاء اللہ آگے چل کر پیش کی جائے گی۔جہاں تک علماء اسلام کا اس سلسلہ میں مؤقف ہے تو وہ صاف دکھائی دیتا ہے کہ توہین رسالت کرنے والے کی سز اقتل ہے۔اگر چہ بعض علماء اس مؤقف کے خلاف بھی ہیں اور اس معاملہ میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔جیسا کہ لکھا ہے کہ گستاخان رسول علیم اور ناموس رسالت پر کیچڑ اچھالنے والوں کو قرآن کریم سنت رسول معلم اجماع صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین اجتماع امت اور قیاس صحیح کی رو سے کافر قرار دیا گیا ہے۔نبی سلام کو اذیت پہنچانے، آپ بلا مالی کا مذاق اڑانے اور استہزا کرنے والوں کی سزا قتل طے پائی ہے۔۔۔۔۔دور حاضر کے بعض بزعم خود روشن خیال و اعتدال پسند لوگ شاتم و گستاخ رسول صلیم کی اس سزا کو غلو و تشدد باور کروانے پر تلے ہوئے ہیں۔لہذا جب مذکورہ مسئلہ میں قرآن وحدیث کے دلائل آپ کے سامنے آجائیں گے تو ان لوگوں کی باتوں کا وزن آپ خود بھی کرسکیں گے۔“ ( شاتم رسول کی شرعی سز اصفحہ ۱۶۱) 66 اسی طرح جناب شیخ الاسلام ڈاکٹرمحمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں کہ مذکورہ بحث سے یہ بات بخوبی عیاں ہوئی کہ بارگاہ رسالتمآب صلیم میں بے ادبی و گستاخی اور توہین و تنقیص کا ارتکاب کرنے والے شخص کو قتل تک پہنچانا عین شرعی وفقہی تقاضا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ حضور علم کی ذات اقدس پر کسی نے حملہ کیا، پتھر مارے گالیاں دیں اور طعن و تشنیع کے تیر برسائے لیکن آقائے دو جہاں علیم نے اپنے حق میں بذات خود تصرف کرتے ہوئے اسے معاف کر دیا تو حضور نبی ارم عالیہ کا یہ عمل اہل ایمان کے مابین