اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 82
82 عہد فاروقی کی روایت اب حضرت عمر کے زمانے کے حالات پر آجائیں۔مولانا مودودی نے اس دور کی جو حدیث پیش کی ہے وہ یہ ہے: عمرو بن عاص حاکم مصر نے حضرت عمر کو لکھا کہ ایک شخص اسلام لا یا تھا پھر کافر ہو گیا۔پھر اسلام لایا پھر کافر ہو گیا۔یہ فعل وہ کئی مرتبہ کر چکا ہے اب اس کا اسلام قبول کیا جائے یا نہیں؟ حضرت عمر نے جواب دیا کہ جب تک اللہ تعالیٰ اس سے اسلام قبول کرتا ہے تم بھی کئے جاؤ۔اس کے سامنے اسلام پیش کرو۔مان لے تو چھوڑ دوور نہ گردن مار دو۔( کنز العمال) ارتداد کی سزا اسلامی قانون میں۔صفحہ ۱۸) یہ جو آخری ٹکڑہ ہے گردن مار دو والا۔اس سے استنباط کر رہے ہیں کہ دیکھو! مرتد کی سزا قتل تھی اس لئے آپ نے یہ فرمایا تھا۔اگر مرتد کی سزا قتل کا حکم تھا تو حضرت عمرؓ جیسے شدت رکھنے والے خلیفہ کے لئے یہ ناممکن تھا کہ وہ جواب دیتے جو آپ نے دیا۔سختی سے آپ سرزنش فرماتے کہ تم کون ہوتے ہو اس ارتداد کے بعد اسے دوبارہ موقع دینے والے کہ دوبارہ اسلام قبول کرے۔اور ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں بارہا ایسا ہو چکا ہے اور پھر بھی تم باز نہیں آئے پھر بھی تم نے اسے قتل نہیں کیا ؟ فرمایا جتنی بار اللہ نے اسے اجازت دی ہے دیتے چلے جاؤ۔یعنی جتنی دفعہ بھی وہ تمہارے قابو میں آئے اور کہہ دے کہ میں اسلام لے آیا ہوں تم پر فرض ہو جائے گا کہ اسے چھوڑ دو۔پھر اس پر تمہیں ہرگز کوئی اختیار نہیں رہتا۔