اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 83

83 ย یہاں عمر کا ایک استنباط ہے اور یہ استنباط بھی ان علماء کو دوسرے مسلمانوں کی جانوں پر کوئی حق عطا نہیں کرتا۔وجہ یہ ہے کہ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ وہ جب کہہ دے میں مسلمان ہو گیا باوجود اس پس منظر کے کہ وہ ہر دفعہ مرتد ہو جاتا ہے جتنی بار بھی کہے تم اس کو چھوڑتے چلے جاؤ۔اس کا فیصلہ اسی پر رکھا ہے۔اس کے اس قول کو ان سب باتوں کے باوجود قابل اعتماد قرار دیا ہے۔اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت عمرؓ نے ان کو یہ کہا تھا چونکہ اس کا جھوٹ ثابت ہو گیا ہے چونکہ اس کی بدعہدی ثابت ہو گئی ہے اس لئے اب کی بار چاہے وہ کہے بھی کہ میں مسلمان ہوتا ہوں تب بھی تم نے اس کی بات نہیں مانتی۔اس لئے اس حدیث سے قتل مرتد کا جواز اور یہ جواز کہ تو بہ کرے بھی تو اس کو معاف نہیں کرنا اور جب بھی کوئی ارتداد کرے اسی وقت اسے قتل کر دو کہاں سے نکل آیا؟ صحت روایات جانچنے کا پیمانہ دوسرے وہ اصول اپنی جگہ قائم ہے، ہرگز اس پر کوئی اثر نہیں پڑا کہ جو حدیثیں یا آثار (اور یہ حدیث آثار میں سے ہے کیونکہ حضرت عمرؓ کا اپنا ایک استنباط ہے اگر حضرت عمرؓ کا استنباط ہو یا تمام صحابہ کا بھی (نعوذ باللہ من ذلک) جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مستمرہ کے خلاف ہو اور قرآن کی واضح آیات کے خلاف ہو تو وہ قابل التفات نہیں۔ایسی صورت میں ہم راوی کو جھوٹا قرار دیں گے نہ کہ نعوذ باللہ حضرت عمر کو غلط استنباط کرنے والا کیونکہ ناممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردہ یہ بزرگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو نظر انداز کر چکے ہوں۔اس لئے ایسی حدیثیں پائیۂ اعتبار سے گر جاتی ہیں۔یہ مطلب نہیں کہ ہم