اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 72
72 سزا سے، اس ظلم سے روکنے کے لئے حضرت ابو بکر صدیق نے فوج کشی فرمائی اور مسلمہ اسلامی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کے جرم میں ان کے خلاف لشکرکشی کی۔مصنف کہتے ہیں: ”جو جان بچا سکے بھاگ کر مدینہ میں پناہ گیر ہوئے۔باغیوں نے اسی پر اکتفا نہ کیا، مرکز خلافت پر چڑھائی کی تیاریاں کرنے لگے۔ان دنوں اتفاق سے عمرو بن العاص بحرین سے واپس آئے۔انہوں نے دیکھا کہ یمن سے مدینہ تک مرند افواج چھاؤنیاں ڈالے پڑی ہیں۔دشمن کی افواج عرب کی ریگ کی طرح بے شمار تھیں اور مقابلہ پر مدینے کے فقط مٹھی بھر بے سر و سامان مسلمان تھے۔“ شیخ محمد اقبال ایم۔اے۔داستان اسلام حصہ دوم ( خلافت را شده) ۱۹۷۰ء لاہور۔مطبوعہ پنجاب پر لیں۔صفحہ : ۲۳) ۲۔ایک اور مؤرخ لکھتا ہے: "آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ اٹھتے ہی عرب کے طول وعرض میں اللہ کے دین کے خلاف بغاوت کے نشان ابھر نے لگے۔صرف مکہ، مدینہ اور طائف کے باشندے ثابت قدم رہے۔بغاوت اور ارتداد کا یہ فتنہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلا اور چند روز ہی میں عرب کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ گیا۔مرتدوں اور باغیوں نے اسلامی عمال کو نکال دیا۔سچے مسلمانوں کو بیدردی سے قتل کرنا شروع کر دیا۔جو بیچ سکے بھاگ کر مدینہ میں پناہ گزین ہوئے۔کچھ طالع آزماؤں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کو دیکھ کر خانہ ساز نبوت کا ڈھونگ رچایا۔مختلف قبائل میں کئی جھوٹے نبی پیدا ہو گئے ( جن میں ایک مشہور شخص طلیحہ بن خویلد تھا) اس کا اصلی نام طلحہ تھا مسلمان اسکو تحقیر اطلیحہ کہتے تھے۔یہ بنواسد کے قبیلہ سے تھا جو قریش کا دیرینہ حریف تھا۔طلیحہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی