اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 69 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 69

69 فیصلہ ہے۔معاذ نے یہ بات تین دفعہ کہی۔آخر کار جب وہ قتل کر دیا گیا تو معاذ بیٹھ گئے۔ارتداد کی سزا اسلامی قانون میں۔صفحہ ۱۴) یہاں ایک طرف معاذ کہہ رہے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کا یہی فیصلہ ہے مگر یہ فیصلہ کب ہوا تھا کیا الفاظ تھے اس کے، اسکا معاذ کوئی ذکر نہیں کرتے۔دوسری طرف اللہ کے کسی ایسے فیصلے کا کوئی ذکر قرآن کریم میں موجود نہیں اور نہ ہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فیصلہ کسی حدیث میں مذکور ہے کہ محض ارتداد کے نتیجہ میں کسی کو قتل کر دیا جائے اس لئے معاذ کے اس قول سے یہ استنباط کرنا زیادہ قرین قیاس ہے کہ یہ ان کا اپنا استدلال تھا۔اسکی حیثیت ان کی ذاتی رائے کی ہے نہ کہ قرآن وحدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔پھر اس واقعہ کے ساتھ کوئی تفصیل بیان نہیں ہوئی کہ یہودی کیوں لایا گیا؟ اس نے کیا حرکت کی تھی؟ ہر بات مبہم ہے اور امکانات واحتمالات موجود ہیں۔اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ کسی اور شرارت میں پکڑا گیا ہو۔اور اس بناء پر وہاں لایا گیا ہو۔ہو سکتا ہے اس نے اسلام کے خلاف محاربت کی ہو۔چونکہ یہ سارے واقعات مبہم ہیں اس لئے اس مبہم حدیث پر جس میں ایک صحابی کا صرف استنباط ہے بناء کرتے ہوئے اتنے اہم مسئلہ میں قرآن کی واضح آیات کے منافی فیصلہ کرنا ظلم ہے۔یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جہاں قرآن کریم کی نص صریح موجود ہو اس کے خلاف بظاہر مستند حدیث بھی مل جائے تو تقویٰ کا تقاضا ہے کہ اس ظاہری طور پر مستند حدیث کو رد کر دیا جائے جو کھلم کھلا قرآن کریم کی نص صریح سے ٹکراتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔اس حدیث کی صرف یہی حیثیت نہیں بلکہ دوسری حدیثیں واضح طور پر اس