اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 70
70 مضمون کی نفی کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔جیسا کہ میں نے ایک اور حدیث آپ کے سامنے پیش کی ہے پھر یہ بھی ذکر نہیں کہ اس واقعہ کی اطلاع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کی گئی یا نہیں۔اگر کی گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر کیا رد عمل تھا؟ سو قرآن کریم کی آیات ،سنت نبوی، تاریخ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مرتد کی موت تک مسلسل عمل کہ اس کے قتل کا حکم نہیں دیتے یہ سب کچھ ثابت کرتا ہے کہ اتنے واضح دلائل کے مقابل پر اس قسم کے کمزور استدلال کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہے اور اتنے بڑے اہم عقیدہ کی اس پر بنیاد نہیں ڈالی جاسکتی۔عہد صدیقی اور ارتداد اب خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتا ہوں۔اکثر کتا ہیں جو ارتداد کی سزا قتل کے حق میں آپ پڑھیں گے ان میں آپ دیکھیں گے کہ علماء سرسری طور پر قرآن اور حدیث کی بحث کر کے بڑی تیزی کے ساتھ دور ابوبکر میں داخل ہوتے ہیں اور اپنے عقائد کو سہارا دینے کے لئے وہاں پناہ ڈھونڈتے ہیں اور کہتے ہیں یہ سنت صدیقی ہے۔سنت محمدی ان کو بھول جاتی ہے اور سنت صدیقی کی باتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔مزعومہ سنت صدیقی کی حقیقت حالانکہ حسنت صدیقی بھی وہ سنت نہیں جو حضرت ابوبکر صدیق کی طرف وہ منسوب کرتے ہیں۔بلکہ تاریخ واضح طور پر اس بات کو جھٹلا رہی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق نے کبھی کسی کو محض ارتداد کے جرم میں قتل کرایا ہو۔یا کبھی کسی کو اس کے