اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 38

38 ”یہاں عہد شکنی سے مراد کسی طرح بھی سیاسی معاہدات کی خلاف ورزی نہیں لی جاسکتی بلکہ سیاق عبارت صریح طور پر اس کے معنی ”اقرار اسلام سے پھر جانا ، متعین کر دیتا ہے۔اور اس کے بعد فَقَاتِلُوا ايمةَ الكُفْرِ کے معنی اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتے کہ تحریک ارتداد کے لیڈروں سے جنگ کی جائے۔“ ( ارتداد کی سزا اسلامی قانون میں، طبع اول۔اچھرہ (لا ہور۔) مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی ۱۹۵۱ء صفحہ ۱۰) مودودی استدلال کا تجزیہ اس میں بہت سی باتیں محل نظر ہیں۔پہلی بات تو مودودی صاحب کا یہ دعویٰ کہ سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ عہد سے مراد قبول اسلام کا عہد ہے۔ان کا یہ دعوی سیاق و سباق سے ہی غلط ثابت ہو جاتا ہے۔یہ سورۃ تو بہ کی آیات ہیں اور قرآن کریم سورۃ تو بہ میں یہ مضمون بیان فرما رہا ہے کہ مشرکین جنہوں نے تم سے عہد باندھا تھا وہ عہد کو توڑنے والے ہیں اور ان کے عہد کا کوئی اعتبار نہیں اور ان سے تمہیں جنگ کرنی پڑے گی۔چنانچہ اس سورۃ کا آغاز ہی اس آیت سے ہوتا ہے: بَرَاءَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُوْلِةَ إِلَى الَّذِيْنَ عُهَدْتُم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ (سورة التوبة: ١) اس میں مشرکین کے مسلمان ہونے کا کہاں ذکر آیا ہے؟ فرماتا ہے: مشرکین ہیں جن کے ساتھ ہم عہد کی بات کرتے ہیں۔مشرکین میں سے جن لوگوں نے اپنے عہد کو تم سے تو ڑا ان کے خلاف ہم تمہیں جنگ پر آمادہ کرتے ہیں۔پھر ذرا