اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 37

37 فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُا الزَّكُوةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَنُفَصِّلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ، وَ اِنْ نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا ايمةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمُ لَعَلَّهُمُ يَنْتَهُونَ ) (التوبة: ١١-١٣) مودودی صاحب کا استدلال فرماتے ہیں۔پھر اگر وہ ( کفر سے) تو بہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔ہم اپنے احکام ان لوگوں کے لئے واضح طور پر بیان کرتے ہیں جو جاننے والے ہیں۔لیکن اگر وہ عہد ( یعنی قبول اسلام کا عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین پر زبان طعن دراز کریں تو پھر کفر کے لیڈروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔شاید کہ وہ اس طرح باز آجائیں“ (التوبہ:۲) ارتداد کی سزا اسلامی قانون میں طبع اول۔اچھرہ (لاہور۔) مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی۔۱۹۵۱ء صفحہ ۹) یہاں پہنچ کر وہی آیت جس سے وہ استنباط کرتے ہیں ان کی دلیل کے بیجیے ادھیڑ دیتی ہے کہ یہ اس لئے کہ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ “ شاید وہ باز آ جائیں۔اگر قتل ہی ہو گئے تو پھر باز کیسے آئیں گے۔اس طرح تو ان کے لئے تو بہ کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔پھر مودودی صاحب کہتے ہیں :