اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 19 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 19

19 قف وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنُ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ (الكهف: ٣٠) کہ دیکھو! تمہارے رب کی طرف سے حق آچکا ہے۔اب ہر شخص کا اختیار ہے۔چاہے تو ایمان لائے اور چاہے تو کفر اختیار کرے۔کسی کو کسی کی تکفیر کا حق نہیں اور چاہنے کا تعلق دل سے ہے۔کہیں قرآن کریم نے اجازت نہیں دی کہ چاہو تو فلاں کو مومن قرار دے دو اور چاہو تو فلاں کو کا فرقرار دید و بلکہ ہر شخص کا اپنا حق رکھا اور اس اعلان کی اجازت دی۔اب اس اعلان میں کسی جبر کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی کہ : فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ اگر ارتداد کی سزا قتل ہے یا کفر کی سزا قتل ہے تو من شاء کے کیا معنی رہ جاتے ہیں؟ اپنی مرضی کو ہر شخص خود بتا سکتا ہے۔پس اگر کسی سے پوچھا جائے کہ تم کافر ہوتے ہو یا مومن رہتے ہو اور وہ کہدے کہ میں مومن ہوں ، میں مسلمان ہوں، تو چونکہ ”شاء“ کا تعلق دل سے ہے، اس لئے کسی اور کو قرآن اجازت ہی نہیں دیتا کہ اس کے دل کی بات وہ بیان کرے۔