اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 14
14 کیونکہ انہوں نے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا انکار نہیں کیا؟ ان کے لئے تو لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ “ ہی کافی تھا۔اس لئے جو تعریف پہلے زمانوں پر اطلاق نہیں پاسکتی ، وہ اب بھی غلط ہے۔اب بھی اطلاق نہیں پاسکتی۔اگر علماء یہ کہیں کہ اس وقت سامنے کوئی جھوٹا نبی تھا ہی نہیں اس لئے تعریف میں جھوٹے نبی کا ذکر آ نہیں سکتا تھا تو اس سے بڑا جھوٹ اور کوئی نہیں، کیونکہ سب سے پہلے اور سب سے یقینی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابل پر دعویٰ کر نیوالا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوا یعنی مسیلمہ کذاب، اور اس دعویدار کی موجودگی میں نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی تعریف بدلی، نہ آپ کے خلفاء نے اسلام کی تعریف بدلی، نہ تبع تابعین نے اسلام کی تعریف بدلی، نہ بعد کی آنے والی نسلوں نے اسلام کی تعریف بدلی۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیال نہیں آیا کہ جب تک اسلام کی تعریف میں اس جھوٹے نبی کا انکار نہ داخل کر لوں اس وقت تک مسلمان کی تعریف مکمل نہیں ہو گی؟ اس لئے لاؤ اب اپنا جواب۔! نظریں دوڑاؤ سارے عالم اسلام پر !! ایک دن کے لئے بھی اس ۷۴ء کے واقعہ سے پہلے ایسی تعریف چسپاں کر کے دکھاؤ کہ جب تک نعوذ باللہ مبینہ طور پر کسی جھوٹے نبی کا انکار تعریف میں داخل نہ ہو جائے اس وقت تک مسلمان، مسلمان بن ہی نہیں سکتا۔مودودی صاحب کی اختراع کردہ تعریف یہ تعریفیں اپنی جگہ۔مولانا مودودی نے ایک الگ تعریف پیش کی ہے۔اس تعریف کی تفصیل تو نہیں بتائی لیکن اس کا اطلاق کر کے دکھا دیا ہے۔میں اس کا نمونہ