اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 8

8 ہزار دوسروں کو قبول ہو یا نہ ہو، مجھے اسکی کوئی فکر نہیں۔میں ( محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) جو خدا کا رسول مقرر ہوا ہوں۔میرے لئے یہی عمومی تعریف کافی ہے کہ کوئی شخص مسلمان ہونے کا دعوی کرے تعریف نبوی۔دوم دوسری تعریف نسبتاً زیادہ دینی نوعیت کی ہے لیکن وہ بھی اتنی سادہ، اتنی صاف، اتنی حسین اور اتنی غیر مبہم ہے کہ اس تعریف کو سننے کے بعد بھی کسی قسم کے اختلاف کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔آپ نے فرمایا:۔مَنْ صَلَّى صَلَا تَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَ أَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِى لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَ ذِمَّةً رَسُولِهِ فَلا تُخْفِرُوا اللهَ فِي ذِمَّتِه - (صحيح بخارى كتاب الصلوة۔باب فضل استقبال القبلة) کہ جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے، ہمارے قبلے کو اپنا قبلہ قرار دے، ہمارا ذبیحہ کھائے ، وہ مسلمان ہے ایسے شخص کی حفاظت کرنا خدا اور اس کے رسول کی ذمہ داری ہے۔پس تم اے مسلمانو! خدا کے ذمے کو ہرگز نہ تو ڑنا۔کتنی عظیم الشان، کتنی واضح اور کیسی حسین تعریف ہے! آج دیکھیں کہ پاکستان میں علماء کیسے اس تعریف کے بالکل برعکس تعریف بنانے کی جرات کر رہے ہیں۔آج سینکڑوں احمدیوں کو اس بنا پر تکلیف دی گئی، قیدوں میں ڈالا گیا اور علماء نے ان کے قتل کے کھلے کھلے فتوے دیئے اور یہ اعلان کیا کہ چونکہ یہ ایسی حرکتیں کر رہے ہیں، اس لئے ہمارے ذمے سے نکل گئے ہیں۔یہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں، یہ ہمارے قبلے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور یہ ہماری طرح کا ذبیحہ