اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 103
تیسری حدیث 103 پھر وہ روایت ہے جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ حضرت عثمان کے پاس چھپ کر ایک مرتد نے پناہ مانگی تھی اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف فرما دیا تھا۔(سنن ابی داؤد کتاب الحدود باب الحكم فيمن ارتد) یہ بھی ایک واضح اور قطعی دلیل ہے کہ قتل مرتد کا کوئی تصور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن میں موجود نہ تھا چوتھی حدیث حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے مجھے ایک فتح کی خوشخبری پہنچانے کیلئے حضرت عمرؓ کی طرف بھیجا۔واقعہ یہ تھا کہ بکر بن وائل قبیلہ کے چھ افراد اسلام سے مرتد ہو کر مشرکین کے جتھے سے جاملے تھے۔حضرت عمرؓ نے پوچھا ان لوگوں کا کیا بنا؟ میں نے عرض کی یا امیر المومنین ! ان لوگوں نے اسلام سے ارتداد اختیار کیا تھا اور مشرکوں سے جاملے تھے قتل کے سوا اور کیا ان کے ساتھ کیا جاتا تھا ؟ اس پر عمر فرمانے لگے اگر میں انہیں قتل کئے بغیر صلح سے پکڑتا تو یہ بات مجھے دنیا میں موجود سب سونے اور چاندی کے مل جانے سے زیادہ پسندیدہ تھی۔میں نے عرض کی یا امیر المومنین ! اگر آپ ان لوگوں کو پکڑ لیتے تو آپ ان سے کیا سلوک فرماتے؟ آپ نے فرمایا: میں ان سے کہتا کہ جس دروازے سے نکلے ہو اسی میں واپس آ جاؤ۔اگر وہ ایسا کرتے تو میں انہیں کچھ نہ کہتا اور اگر وہ نہ