اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 102
102 ناراض ہو کر مدینہ سے چلا گیا۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینے کی مثال تو بھٹی کی طرح ہے جو میل کو باہر نکال دیتی ہے۔یعنی غلط آدمی تھا اس لئے باوجود میری کوشش کے اسلام میں نہیں ٹھہر سکا۔مدینے کے ماحول نے اسے اس طرح باہر پھینک دیا جس طرح بھٹی میل کو نکال دیتی ہے۔( بخارى كتاب الحج باب المدينة تنفى الخبث۔۔۔۔۔) گویا ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک وہ مرتد تھا خود کہہ رہا تھا کہ میرا اسلام واپس کر دیں تین دفعہ ایسا کہا اور جب نکل گیا تو اس کے باوجود آپ نے اس کے قتل کا حکم نہیں دیا کیسے ممکن ہے کہ نعوذ باللہ حضرت عمرؓ کو تو علم ہو، حضرت علی کو تو علم ہو، حضرت ابو بکر" کو تو علم ہولیکن ، اگر علم نہ ہو تو رسول اللہ ہی کو نہ ہو کہ ارتداد کے جرم کی سزا کیا ہے؟ دوسری حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار کے ساتھ جو شرائط منظور فرمائیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اگر کوئی مسلمان مرتد ہو کر کفار مکہ کے پاس چلا جائے گا تو کفارا سے واپس نہیں کریں گے۔( السيرة النبوية لعبد الملك بن هشام، امر الحديبية في آخر سنة ست۔) اگر اسلام میں یہ واضح اور قطعی سزا موجود تھی کہ جو ارتداد کرے گا اسے قتل کیا جائے گا تو دین میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہرگز نرمی نہ فرماتے۔