اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 85 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 85

85 عَنْ عِكْرَمَةَ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِزَنَادِقَةَ، فَأَحْرَقَهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ بُنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُخْرِقْهُمْ، لِنَهْي رَسُولِ اللهِ : لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ ۖ وَ لَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ صلى الله رَسُولِ اللهِ عَلَ: "مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ - (صحيح البخارى كتاب استتابة المرتدين والمعاندين و قتالهم باب حكم المرتد و المرتدة واستبانهم) کہ مکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ کے پاس زندیق لوگ لائے گئے۔ان زندیقوں کو حضرت علیؓ نے زندہ آگ میں جلا دینے کا حکم دیا۔جب حضرت ابن عباس نے سنا تو یہ رد عمل ظاہر کیا کہ کہا اگر میں ہوتا تو ہرگز ایسا نہ کرتا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر ہمیں اس عذاب کے دینے سے منع فرمایا ہے جو عذاب اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے خاص کیا ہے یعنی آگ کا عذاب۔میں انہیں قتل کر دیتا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: کہ جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کر دو۔روایت کی چھان بین یہ بظاہر سب سے مضبوط استدلال رکھنے والی حدیث ہے جو صحاح ستہ میں سے بخاری، ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں آئی ہے۔اس حد تک اس کی صحت ہے مگر کسی روایت کی صحت کا اندازہ صرف اس کے صحاح ستہ میں مذکور ہونے سے نہیں لگایا جاتا بلکہ بعض اور پیمانے بھی ہیں اس کی صحت جانچنے کے۔ان میں ایک اہم معیار یہ ہے کہ روایوں کی شخصیت اور ان کے تسلسل کے بارہ میں گہری