اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 137

137 کجیاں دور کرنے کی کوشش تو ضرور کریں گے، نصیحت کے ذریعے، دلیل کے ذریعہ، پیار محبت سے سمجھا کر ، لیکن ہم داروغہ نہیں ہیں۔اگر کوئی نہیں مانتا تو اسے اختیار ہے چاہے تو انکار کر دے۔فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ (الكهف:۳۰) ہمارا کام صرف پیغام پہنچانا ہے۔لیکن اس پیغام کے ساتھ ہمیں دعا بھی کرنی چاہئے کیونکہ دعا کا ہتھیار سب سے بڑا ہتھیار ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے ایسے ایسے معجزے جزیرہ نما عرب نے دیکھے تھے کہ حیرت سے آج دنیا ان کو تکتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جزیرہ نما عرب میں جو عظیم انقلاب چند سالوں کے اندر اندر واقع ہوا وہ دلیل سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے نتیجہ میں واقعہ ہوا تھا۔ایک حدیث میں آپ نے ایک بات سنی اور ہو سکتا ہے آپ کی توجہ اس طرف نہ گئی ہو کہ وہ علاقے جو مرتد ہوئے تھے ان میں طائف شامل نہیں ہوا، مدینے اور مکے کے علاوہ کہ وہ آپ کی اپنی تربیت سے فیضیاب تھے۔طائف کی بستی اس لئے ارتداد میں شامل نہیں ہوئی تھی کہ یہ بستی خالصتاً آپ کی دعاؤں کے نتیجہ میں مسلمان ہوئی تھی۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر طائف میں ظلم کئے گئے۔آپ پر پتھراؤ کیا گیا۔جب خدا کے فرشتے نازل ہوئے اور انہوں نے آپ سے پیشکش کی کہ چاہو تو ہم اس بستی کو تباہ کر دیتے ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تباہی کی بجائے اس کی ہدایت کی دعا کی تھی۔دیکھو! میرے آقا ومولا کی ہدایت کی دعا کو۔دیکھو تو سہی کس شان کی دعا تھی؟ کہ جب عرب کے لوگ کثرت سے ارتداد اختیار کر رہے تھے تو یہ سب بستیوں