اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 122
122 لوگوں پر لعنت ڈالتا تھا جو یہ عقیدہ رکھتے تھے اور اس پر عمل کی کوشش کرتے تھے کہ اگر کوئی اپنی ملت سے پھر جائے تو اس کی سزا قتل ہونی چاہئے یا اسے زندہ جلا دینا چاہئے یا اسے بستی سے نکال دینا چاہئے یا اسے قید کر دینا چاہئے۔حضرت نوح پر ارتداد کا الزام چنانچہ حضرت نوح کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ ان کی قوم نے بھی آپ کو کہا کہ تم اپنے دین سے خود بھی پھر گئے ہو اور دوسروں کا دین بھی تبدیل کروا ر ہے ہو اور قَالُوا لَبِنْ لَمْ تَنْتَهِ يُنُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِينَ ) (الشعراء: ۱۱۷) انہوں نے بیک آواز ہو کر کہا کہ اے نوح! اگر تو اس بات سے باز نہ آیا، اگر تو نے ارتداد سے تو بہ نہ کی اور لوگوں کو مرتد بنانے سے باز نہ آیا تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ تیرا انجام یہ ہوگا کہ تو ہمارے ہاتھوں سنگسار کیا جائے گا۔اس لئے اگر آج کوئٹہ کے علماء نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ احمدی مرتد ہیں۔ان کی مرضی کے خلاف زبر دستی انہیں اسلام سے باہر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس ارتداد کی سزا رجم ہے، ان کو زمین میں گاڑھ کر سنگسار کر دینا چاہئے تو یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں اس سے قبل حضرت نوح کے مخالفین بھی بعینہ یہی دعویٰ کر چکے ہیں۔حضرت ابراہیم پر فتوی ارتداد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارہ میں قرآن کریم میں آتا ہے: قَالَ اَرَاغِبُ اَنْتَ عَنْ أَلِهَتِى يَابُرُ هِيمُ ۚ لَبِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لا رَجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيَّاه (مريم : ۴۷) ابراہیم کے باپ نے ( جو بعض کے نزدیک ان کا چا تھا مگر قرآن اسے باپ