اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 115
115 ملاؤں کے ارادے ان کے ارادے کیا ہیں؟ اگر ان کا بس چلے ( اور جس طرح حکومت پاکستان پر یہ ایک عالمی سازش کے تحت قبضہ کر رہے ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے) تو یہ کیا کریں گے؟ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء نے اس مسئلے پر غور کیا کہ اس عقیدہ کے نتیجے کیا نکل سکتے ہیں۔عدالت کے جج صاحبان جسٹس منیر اور جسٹس کیانی نے لکھا کہ : وو دیوبندیوں کے دارالعلوم سے مصدقہ فتوی (13 EX-D-E) میں اثناعشری شیعوں کو کافر اور مرتد قرار دیا گیا ہے“ اور شیعوں کے نزدیک تمام سنی کافر ہیں اور اہل قرآن یعنی وہ لوگ جو حدیث کو غیر معتبر سمجھتے ہیں اور واجب التعمیل نہیں مانتے متفقہ طور پر کافر ہیں اور یہی حال آزاد مفکرین کا ہے۔اس تمام بحث کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ شیعہ، سنی، دیوبندی، اہل حدیث اور بریلوی لوگوں میں سے کوئی بھی مسلم نہیں۔اور اگر مملکت کی حکومت ایسی جماعت کے ہاتھ میں ہو جو دوسری جماعت کو کافر سمجھتی ہے تو جہاں کوئی شخص ایک عقیدے کو بدل کر دوسرا اختیار کرے گا اس کو اسلامی مملکت میں لازماً موت کی سزا دی جائے گی“ رپورٹ تحقیقاتی عدالت برائے فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء صفحہ ۲۳۶۔۲۳۷) آج اسلام کو خود عالم اسلام سے خطرہ ہے۔یہ ایک بھیانک سازش ہے جس کا سر براہ آج امریکہ کا استعمار ہے۔جن جن حکومتوں پر امریکہ کا رعب اور تسلط ہے