اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 104
104 مانتے تو انہیں قید میں ڈال دیتا۔(كنز العمال كتاب الايمان والاسلام من قسم الافعال باب اوّل الفصل الخامس فى الارتداد و احكامه حديث نمبر ١٤٦٤ مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت الطبعة الاولى ١٤٩١ هـ ١٩٩٨م) اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ خلیفہ راشد حضرت عمرؓ بھی قتل مرتد کے نظریہ کے مخالف تھے۔نظریہ قتل مرتد اور علماء سلف قتل مرتد کے قائلین جب زمانہ نبوی ﷺ اور زمانہ خلافت راشدہ میں کوئی مضبوط ٹھوس دلیل نہیں پاتے تو پھر اجماع کی باتیں شروع کر دیتے ہیں اور اسلام کے وسطی زمانہ (جبکہ تاریکی پھیل چکی تھی) کے علماء کی باتوں سے استنباط کرتے ہوئے یہ اعلان کرتے ہیں کہ اس مسئلے پر اجماع ہو چکا ہے۔اس لئے اجماع کے مقابل پر کسی کی بات قبول نہیں کی جائے گی۔دلیل اول: دعوی اجماع غلط ہے اس اجماع کے خلاف ایک دلیل تو میں پہلے دے چکا ہوں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مرتدین گرفتار ہوئے ہیں اور ان کو قتل نہیں کیا گیا۔تاريخ الطبري، حوادث ۵۱۱- صفحه ۲۵۹ تا ۲۶۳، تاریخ ابن خلدون جلد اول ردة اهل عمان و مهرة واليمن صفحه ۱۸۷۲،۸۷۱ مطبوعہ دار ابن حزم بيروت الطبعة الاولى ٢٠٠٣م)