اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 84

84 حضرت عمر کی بات نہیں مانتے۔مراد یہ ہے کہ چونکہ واضح طور پر یہ حدیث یا اثر قرآن وسنت سے ٹکرا رہا ہے اس لئے راوی غلط ہے کسی کو یا غلط فہمی ہوئی ہے یا کسی نے جھوٹ بولا ہے۔مرتد لڑائی کرنے والا تھا دوسری بات یہ ہے کہ اس شخص کے متعلق یہ وضاحت ملتی ہے کہ وہ حالت جنگ میں پکڑا گیا تھا اور یہاں ایک اور استدلال ہے وہ شخص جو حالت جنگ میں پکڑا جائے اور حاکم وقت یا فاتح جرنیل نے یہ فیصلہ کیا ہو کہ ہم اسے قتل کریں گے کیونکہ اس نے ہم سے جنگ کی ہے اور ہمارے ساتھیوں کو قتل کیا ہے ( حاکم وقت یا فاتح جرنیل کو یہ قانونی حق حاصل ہے معاف کرنے کا بھی یا قتل کر دینے کا بھی) اب اگر وہ گرفتار شدہ شخص جان بچانے کے لئے اسلام قبول کر لے تو پھر جس وقت بھی وہ اسلام سے پھرتا ہے وہ اپنے آپ کو گو یا قتل کے لئے پیش کر دیتا ہے کیونکہ صاف پتہ چلے گا کہ قتل کا فیصلہ جو جائز تھا اس کی تلوار بہر حال لٹکی رہے گی۔دھوکہ دے کر جائز فیصلے سے بچنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔یہ ایک اور مضمون ہے۔اسکا ارتداد کے ساتھ بالکل کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔عہد علی کی روایت اب ہم حضرت علی کے دور میں داخل ہو جاتے ہیں۔وہاں بھی ایک بڑی خطرناک قسم کی نظر آنے والی حدیث ( با اثر کہنا چاہئے جس کے ساتھ ایک حدیث بھی منسلک ہے) پیش کی جاتی ہے اور اس حدیث کی سند بظاہر بڑی مضبوط ہے لیکن اس کے متعلق میں آگے جا کر بحث کروں گا۔حدیث یہ ہے: