اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 81
81 اور تاثر یہ دیا ہے کہ محض ارتداد کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا تھا۔حالانکہ اس میں جو واقعہ بیان ہوا ہے اس میں اسکا کوئی ذکر نہیں کہ محض ارتداد کی بنا پر اسے قتل کیا گیا ہو۔مگر وہ اس بات پر مصر ہیں کہ ام قرفہ کا قتل بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ : اُمُّ قِرْفَةَ كَانَ لَهَا ثَلَا ثُونَ إِبْنا وَ كَانَتْ تُحَرِّضُهُمْ عَلَى قِتَال الْمُسْلِمِينَ، وَ فِي قَتْلِهَا كَسْرُ شَوْكَتِهِمْ 66 ( المبسوط لشمس الدين السرخسی طبع دوم۔بيروت۔دار المعرفة للطباعة والنشر جزء دهم صفحه : ۱۱۰) اس عورت کے قتل کا حکم اس لئے دیا گیا تھا کہ اس کے تئیں بیٹے تھے اور وہ ان تمھیں کے تمیں بیٹوں کو ہر وقت مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تحریک کرتی رہتی تھی ، ابھارتی رہتی تھی۔چنانچہ اس کے بیٹوں کی شوکت کو توڑنے کے لئے ان کی ماں کو قتل کروایا گیا کہ اگر یہ ماں اپنے بیٹوں کو اکساتی ہے اور اگر ان میں اتنی ہی طاقت ہے تو ہم ان کی ماں کو اس جرم میں قتل کرتے ہیں ان میں طاقت ہے تو روک کے دیکھ لیں اور اپنی ماں کو بچالیں اور ان تیں کو قتل نہیں کروایا جو جنگ کا ذریعہ بنائے گئے تھے۔یہ اس لئے کہ تا اگر ایک کے قتل سے شر رک سکتا ہے تو ایک ہی قتل ہو۔علم درایت کی رو سے تو یہ روایت اس لئے بھی قابل قبول نہیں کہ تمیں بچوں کی بوڑھی ماں ان کو اکسا رہی ہے جو خود مرتد تھے۔اور ان مرتدوں کو پوچھا تک نہیں گیا بلکہ اس بڑھیا کو قتل کر دیا گیا۔