اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 66 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 66

66 اس کی سفارش کر رہے ہو! ان سب باتوں کے باوجود ایک دفعہ بھی حضور نے یہ نہیں فرمایا بلکہ جب عثمان نے معافی کی درخواست کی تو آپ نے منہ پھیر لیا۔دوسری دفعہ پھر درخواست کی۔پھر خاموش رہے تیسری دفعہ پھر درخواست کی پھر خاموش رہے۔اور چوتھی بار جب درخواست ہوئی تو ہاتھ بڑھایا اور رحمۃ للعالمین نے اس کی بیعت قبول فرمائی۔(سنن النسائى كتاب تحريم الدم باب الحكم في المرتد) ایک اور واقعہ اس واقعہ کے ساتھ ایک چھوٹا سا واقعہ اور ہوا ہے اسے بھی یہ علماء استنباط کی تائید میں پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت قبول فرمالی تو پھر صحابہ سے شکوہ کیا کہ کیا تمہیں علم نہیں تھا کہ میں نے اس شخص کو ان لوگوں کی فہرست میں داخل کر دیا تھا جن کو میں نے معاف نہیں کیا؟ کیوں کس بات نے تمہیں روکا کہ اٹھتے اور اسے قتل کر دیتے ؟ دو تین بار ایسا ہوا؟ صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ ! آپ آنکھ سے اشارہ فرما دیتے آپ نے فرمایا: یہ رسول کی شان کے خلاف ہے کہ وہ آنکھوں کی خیانت کا مرتکب ہو ، جو بات کرتا ہے صاف کرتا ہے اور کھلی کرتا ہے۔یعنی اگر میں نے اس کو مروانا ہوتا تو میں تمہیں کہتا کہ مار دو۔میں ہرگز یہ بات نہیں کر رہا۔افسوس کہ بعض علماء اس سیدھی بات سے ایک ٹیڑھا استدلال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ”خَائِنَةَ أَعْيُن“ کا مرتکب نہ ہونے کا تو صاف یہ مطلب ہے کہ اس قسم کی حرکتیں میری اخلاقی عظمت کے خلاف ہیں۔اگر میں چاہتا کہ اسے مروا دوں تو میں