اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 42
42 فرمایا: جن لوگوں سے ہم تمہیں لڑنے کا حکم دے رہے ہیں اس لئے کہ تم غالب ہو اور مضبوط ہو اور ان کی گردنیں تمہارے ہاتھوں میں آئی ہوئی ہیں بلکہ وہ اتنے مضبوط اور اتنے قوی ہیں کہ رسول اور آپ کے ساتھیوں کو شہر سے نکالنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ان کے جرم کیا ہیں؟ یہ نہیں فرمایا: اِرْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ وہ اپنی پیٹھوں کے بل پھر گئے اور انہوں نے اسلام سے منہ موڑ کر کفر اختیار کر لیا۔ہر گز نہیں۔بلکہ فرمایا نَكَثُوا أَيْمَانَهُمُ : انہوں نے اپنی قسمیں توڑی ہیں اور اپنی شرارتوں اور زیادتیوں میں وہ پہل کر گئے ہیں۔پہلے انہوں نے تمہارے خلاف تلوار اٹھائی ہے۔پہلے انہوں نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے۔66 تُقَاتِلُونَ ہے نہ کہ تَقْتُلُونَ آلَا تُقَاتِلُونَ “ کا صیغہ خود ہی بتا رہا ہے کہ کسی تلوار اٹھانے والے سے مقابلہ کا حکم ہے کیونکہ تُقَاتِلُونَ" مفاعلہ کا صیغہ ہے۔اگر صرف قتل کرنا مراد ہوتی تو اَلَا تُقَاتِلُونَ “ کی بجائے اَلَا تَقْتُلُونَ کہنا چاہئے تھا۔کوئی شخص جسے معمولی سی بھی عربی کا فہم ہو وہ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتا کہ قرآن کریم نے الا تَقْتُلُون “ نہیں فرمایا بلکہ آلَا تُقَاتِلُونَ فرمایا۔اور وَهُمْ بَدَهُ وَكُمُ اَوَّلَ مَرَّةٍ“ نے اس بات کی خوب وضاحت کر دی کہ وہ لوگ جو پہلے تمہارے خلاف تلوار اٹھا چکے ہیں، باغی ہیں، عہدہ شکن ہیں۔سازشی ہیں۔محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے سے نکالنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔چونکہ ان کے عہد کی کوئی بھی حیثیت باقی نہیں رہی اور وہ ان سب جرائم ،،