اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 41

41 ایسے ذلیل ہو جاتے ہیں کہ عہد بھی توڑتے ہیں اور پھر تمہیں تکلیفیں بھی پہنچاتے ہیں۔کھلم کھلا بغاوت کرتے ہیں تو ) پھر تم ضرور کفر کے ائمہ سے جنگ کرو۔کیونکہ ان کے لئے اس وقت تک کوئی کارروائی جائز نہیں جب تک وہ خود اپنا عہد نہ توڑیں۔لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ تا کہ وہ باز آ جائیں۔مولانا مودودی اور بعض دوسرے علماء کے نزدیک تو باز آنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں کیونکہ مرتد تو بہ کرنے کے باوجود بھی قتل کیا جائے گا۔کیونکہ ان علماء کے نزدیک تو مرتد کی توبہ قبول ہی نہیں ہوتی۔(ملاحظہ ہو الشهاب لرجم الخاطف المرتاب - صفحہ (۱۸) لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ بتا رہا ہے کہ اس سے قتل مرتد کا استنباط کرنا انتہائی ظلم ہے۔کاش یہ علماء اس حرکت سے باز آجائیں کیونکہ بات تو مشرکین کی ہورہی ہے۔اسلام قبول کرنے والوں کی بات تو ہو ہی نہیں رہی۔اور قرآن کریم کی طرف وہ باتیں منسوب نہ کریں جن کا قرآن کریم سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔حقیقی ساق وسباق مولوی مودودی صاحب کے اس مشورہ پر عمل کرتے ہوئے سیاق وسباق کو دیکھتے ہوئے اب ہم اس کے معاً بعد آنے والی آیت کا ذکر کرتے ہیں۔اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کون لوگ مراد ہیں۔کیا مرتد کی سزا قتل کا معاملہ زیر بحث ہے یا کچھ اور معاملہ؟ کن سے مقاتلہ کرو۔کن سے لڑائی کرو۔فرمایا: أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمُ بَدَهُ وَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللَّهُ اَحَقُّ أَنْ تَخْشَوْهُ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ ) (التوبة:١٣)