اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 40

40 والے ہیں۔یقیناً ان کے اعمال بہت برے ہیں۔کسی مومن کے بارہ میں وہ کسی رشتہ داری کا لحاظ نہیں کرتے اور نہ عہد و پیمان کا۔اور وہ حد سے بڑھے ہوئے ہیں۔سیاق اس آیت کا یہ ہے۔کیا یہ مسلمانوں کی باتیں ہو رہی ہیں؟ حیرت کی بات ہے کہ مودودی صاحب کس طرح یہ کہتے ہیں کہ سیاق و سباق کو دیکھو تو قطعاً ثابت ہو جائے گا کہ قرآن کریم میں جس عہد کا ذکر چلا ہے وہ عہد مسلمانی یعنی عہد بیعت ہے۔پھر فرماتا ہے: فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُا الزَّكُوةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَنُفَصِّلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ یہ آیت ایک جملہ معترضہ کے طور پر بیچ میں آئی ہے۔عہد کے ذکر کو وقتی طور پر چھوڑ کر یہ بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں میں سے جن کے ساتھ تمہارا عہد ہے اگر کوئی اسلام قبول کر لیں تو پھر ان سے تمہیں صرف نظر کرنی چاہئے۔ان سے تمہارا جھگڑ اختم ہو جاتا ہے۔ان کا معاملہ ہی بدل جاتا ہے۔پھر دوبارہ اس عہد کی بات شروع ہوئی جو شروع سے چلی آ رہی ہے کہ : وَاِنْ نَّكَثُوا اَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَيْمَةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمُ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ (التوبة : ١٢) یعنی پھر اگر وہ عہد کو توڑتے ہیں اور تمہارے دین میں طعن کرتے ہیں (صرف عہد توڑنا کافی نہیں۔کیسا عظیم کلام ہے۔کیسی عظیم رحمت ہے کہ باوجوداس کے کہ مشرک عہد تو ڑ رہے ہیں پھر بھی ان کی سزا کا حکم نہیں آتا۔فرماتا ہے کہ اگر